رہنا اچھا نہیں ہوتا۔۳؎
۶؍اگست ۱۹۰۷ئ
کھانا کھلانے کا ثواب مردوں کو پہنچتاہے:۔
ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی شخص حضرت سید عبدالقادر کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر کھانا پکاکر کھلاوے تو کیا یہ جائز ہے؟
حضرت نے فرمایا کہ :۔
طعام کا ثواب مُردوں کا پہنچتاہے ۔ گذشتہ بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر اگر طعام پکا کر کھلایا جائے تو یہ جائز ہے لیکن ہر ایک امرنیت پر موقوف ہے۔ اگر کوئی شخص اس طرح کے کھانے کے واسطے کوئی خاص تاریخ مقرر کرے اور ایسا کھانا کھلانے کو اپنے لیے قاضی الحاجات خیال کرے تو یہ ایک بُت ہے اور ایسے کھانے کا لینا دینا سب حرام ہے اور شرک میں داخل ہے۔ پھر تاریخ کی تعین میں بھی نیت کا دیکھنا ہی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ملازم ہے اور اُسے مثلاً جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے تو ہر ج نہیں کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقررکرے ۔ غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شرک پایا جائے صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلانا جائز ہے۔
قرآن شریف کے اوراق کا ادب :۔
ایک شخص نے عرض کی کہ قرآن شریف کے بوسیدہ اوراق کو اگر بے ادبی سے بچانے کے واسطے جلا دیا جائے تو کیا جائز ہے؟ فرمایا:۔
جائز ہے ۔ حضرت عثمان ؓ نے بھی بعض اوراق جلائے تھے ۔ نیت پر موقوف ہے۔۱؎