کس بات میں راضی ہے اور کس دین کے حق میں وہ اپنے نشانات زبردست دکھاتاہے۔ تب انسان اس دین کو سچے دل سے قبول کرتاہے اور اخلاص کے ساتھ اس کی خاطر ہر ایک تکلیف کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاتاہے نشانات کے ذریعہ تکمیل ایمان ہوتی ہے۔ جماعت کے واسطے خدا تعالیٰ نے یہ ایک عمدہ راہ نکالی ہے۔ جب خدا تعالیٰ کی فرمائی ہوئی باتیں پوری ہوتی ہیں تو دل کو سرور اور خوشی ہوتی ہے ۔ انسان خدا تعالیٰ کے فضل سے سیراب ہو جاتاہے اور اس کایقین بڑھتا ہے کہ اس سلسلہ کے اختیار کرنے میں میں نے کوئی غلطی نہیں کھائی ۔ مگر یہ مت خیال کرو کہ غلطی کے نہ کھانے میں تمہاری کوئی بہادری ہے ۔ ہرگز نہیں ۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے کہ تم نے غلطی نہیں کھائی ورنہ بڑے بڑے فاضل اور مولوی لوگ اس جگہ ٹھوکر کھا گئے ہیں۔ ۱؎
اگست ۱۹۰۷ئ ۲؎
ہرایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے:۔
ایک شخص نے عرض کی کہ میں ایک گائوں میں دوکان پر گڑ شکر بیچتا ہوں۔ بعض دفعہ لڑکے یا زمینداروں کے مزدور اور خادم چاکر کپاس یا گندم یا ایسی شے لاتے ہیں اور اس کے عوض میں سودا لے جاتے ہیں جیسا کہ دیہات میں عموماًدستور ہوتاہے لیکن بعض لڑکے یا چاکر مالک سے چوری ایسی شئے لاتے ہیں۔ کیا اس صورت میں ان کو سودا دینا جائز ہے یاکہ نہیں؟
فرمایا:۔
جب کسی شئے کے متعلق یقین ہو کہ یہ مال مسروقہ ہے تو پھر اس کا لینا جائز نہیں لیکن خواہ مخواہ اپنے آپ کو بدظنی میں ڈالنا امرفاسد ہے۔ ایسی باتوں میں تفتیش کرنا اور خواہ مخواہ لوگوں کو چور ثابت کرنا دوکاندار کاکام نہیں۔ اگر دوکاندار ایسی تحقیقاتوں میں لگے گا تو پھر دوکانداری کس وقت کرے گا؟ ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے۔ قرآن ِ شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ گائے ذبح کرو۔ بہتر تھا ایک گائے پکڑکر ذبح کر دیتے ۔ حکم کی تعمیل ہوجاتی ۔ انہوں نے خواہ مخواہ اور باتیں پوچھنی شروع کیں کہ وہ کیسی گائے ہے اور کیا رنگ ہے اور اس طرح کے سوال کرکے اپنے آپ کو اور دقت میں ڈال دیا۔ بہت مسائل پوچھتے رہنا اور باریکیاں نکالتے