اور کاذب کے درمیان ایک فرق ہو جائے ۔ سب انبیاء کے وقتوں میں ایسے مخالف ہوتے چلے آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے آدمی موجود تھے۔ مگر اس قسم کے لوگ ہمیشہ بعد میں آتے ہیں۔ شروع میں صادق ہی ظاہر ہوتاہے ۔ پھر اس کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ریس کرتے ہیں۔ اس میں خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ اچھی طرح سے شائع نہ ہوگیا۔ تب تک کوئی ایسا آدمی پید انہ ہوا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تاکہ کوئی ایسا نہ کہہ سکے کہ اس شخص نے فلاں شخص کی ریس کرکے دعویٰ نبوت کر دیا ہے ۔ ایساہی اس زمانہ میں مطلق خاموشی تھی۔ کوئی شخص خدا تعالیٰ سے وحی پانے کا اور مسیح موعود ہونے کا مدعی نہ تھا ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے ہم پر اپنی وحی نازل کرکے ہمیں مسیح موعود بنایا ۔ یہ امر بھی منہاج ِ نبوت میں داخل ہے کہ صادق کا دعویٰ اول ہو اور کاذب پیچھے ہوں۔ اور لوگوں کی بے خبری کے علاوہ ہم تو خود بھی بے خبر تھے۔ اپنے طور پر میری عادت تھی کہ غیر مذاہب کے برخلاف اخبارات میں مضامین دیتاتھا اور اسلام کی صداقت کے ظہور میں کوشاں رہتاتھا۔ ان ہر دو میں بعض مضامین میں نے لکھے تھے مگر ان مضامین میں ہمارا مطلب صرف عقلی دلائل کے پیش کرنے کا ہوتاتھا اور وحی الٰہی اور نشانات کے دکھانے کا کوئی خیال نہ تھا۔ دو جلدیں براہین احمدیہ کی میں لکھ چکا تھا اور اس وقت تک مجھے خبر نہ تھی جبکہ یکدفعہ یہ الہام ہوا۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْ مِنِیْنَ اسی براہین احمدیہ میں ہم نے یہ الہام بھی درج کیا ہے کہ یَا عِیْسیٰ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ۔ اور اسی میں ہم نے حضرت عیسیٰؑ کے متعلق اپنا وہی عقیدہ پیش کیا ہے جو پُرانا عقیدہ تھا کہ مسیح آسمان پر ہے ۔ اس سے دیکھنے والے کے واسطے یہ امر ظاہر ہے کہ اگر ہم تصنع اور بناوٹ سے کوئی کام کرتے اور افتراء کے ساتھ یہ باتیں بناتے تو ہم ایسا کیوں کرتے ۔ جو شخص افتراء کرنے لگتا ہے وہ تو اول ہی سب پہلو سوچ لیتاہے ۔ اس میں خدا تعالیٰ کی ایک مصلحت تھی کہ ہم نے ایسا لکھ دیا تاکہ ہماری سچائی پر ایک دلیل قائم ہو جائے ۔ پہلے سے ہی براہین کے اندر ایک تناقض ہوگیا ۔ اور ہم خود بھی اس تناقض کو نہ سمجھ سکے۔ یہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی حکمت تھی۔ نشانات کا ظہور :فرمایا:۔ گذشتہ دنوں میں خدا تعالیٰ بہت سے نشانات دکھا چکا ہے جن میں سے بعض کتاب حقیقۃ الوحی میں بھی درج ہو چکے ہیں مگر اب معلوم ہوتاہے کہ آسمان پر کسی اور نشان کی تیاری ہو رہی ہے تاکہ ایمانداروں کے ایمان او رقوی ہو جاویں ۔ ہر ایک نشان جو ظاہر ہوتاہے اس سے لوگوں کے ایمان قوی ہوتے ہیں کیونکہ نشان کے ذریعہ سے ایک انکشافِ تام ہو جاتا ہے جب آدمی اچھی طرح سے معلوم کر لیتاہے کہ خدا تعالیٰ