لے جا کر اُن کو قید کر دیاتھا۔ مگر خدا تعالیٰ نے اُن کو بچا لیا اور خود بخود یہاں چلے آئے۔ برخلاف اس کے عیسائیوں کا مذہب عموماً تنخواہ پر ہے۔ اگر آج ان کو موقوف کر دیا جائے تو بس ساتھ ہی ان کی عیسائیت بھی موقوف ہو جائے۔ امرت سر میں ایک پادری رجب علی تھا۔ وہ کئی مرتبہ مسلمانوں میں آکر ملتاتھا۔ پھر عیسائی ہو جاتاتھا۔ عیسائی ہونے کی حالت میں اس کا ایک اخبار نکلتا تھا ۔ عیسائیوں سے کچھ ناراض تھا۔ ان دنوں میں ایک گرجا پر بجلی گری تھی۔ اس خبر کو اپنے اخبار میں درج کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ گرجے پر بجلی گِرنا دو اسباب سے خالی نہیں ۔ یا تو اس کا سبب یہ ہوا ہے کہ روح القدس کو مصالحہ بہت لگ گیا تھا اور اس نے گرجے پر اُتر کر گرجے کو جلا دیا۔ اور اگر یہ سبب نہیں تو پھر یہ سبب ہے کہ میری آہ گرجے پر پڑی ہے اور اس نے گرجا کو جلا دیا ہے ۔ اکثر اس قسم کے عیسائی دہریہ اور کمینہ طبع ہوتے ہیں۔ عیسائی مذہب کے کفارہ نے ایسی بے قیدی کر دی ہے کہ جو گناہ چاہو کر لو سزا تو یسوع بھگتے گا۔ اسی واسطے ضرب المثل ہوگئی ہے کہ ؎عیسائی باش ہرچہ خواہی کُن کیونکہ اگر زنا اور شراب حرام ہے تو پھر کفارہ سے فائدہ کیا؟ کفارے کا یہی تو فائدہ ہے کہ اس نے معافی کی ایک راہ کھول دی ہے ۔ اگر عیسائی بھی گناہ کرنے سے پکڑا جاتاہے جیسا کہ غیر عیسائی پکڑا جاتاہے تو پھر دونوں میں فرق کیا ہوا؟ اور کسی کو عیسائی بننے سے فائدہ کیا حاصل ہوا۱؎ یکم اگست ۱۹۰۷ئ؁ صادق کا دعویٰ پہلے ہوتاہے اور کاذب کا بعد میں:۔ تازہ الہام الٰہی اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا ذکر تھا۔ فرمایاکہ : قریب العہد اہانت کرنے والا تو ڈاکٹر عبدالحکیم ہے جس نے بہت اہانت کے لفظوں میں ایک خط لکھا ہے اور ہماری موت کے متعلق پیشگوئی کی ہے ۔ یہ وحی الٰہی پہلے بھی بہت بار نازل ہوچکی ہے ۔ مگر ہر بار اس کا شان ِ نزول جدید ہوتاہے ۔ ایسے لوگوں کی مخالفت سے رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہیئے۔ ضرور تھا کہ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے تاکہ صادق