پوشیدہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی مگر خدا تعالیٰ نے ان کی عزت کو ظاہر کر دیا۔
ہم نے بٹالہ میں ایک پیرزادہ کو دیکھا کہ وہ اپنی زمین کے مقدمات کے واسطے غبار آلودہ ہو ا کسی ڈپٹی کے پیچھے پھرتا تھا۔ میں حیران ہوا کہ اگر اس شخص میں سچی نیکی ہوتی اور یہ خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والا ہوتا تو ایسے مکدرات میں کیوں گرتا۔
مذہب فروشی سکھانے والے پادری :۔
ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ دیسی عیسائی ہے اور مسلمان ہونا چاہتا ہے مگر روپے مانگتاہے یا تنخواہ مانگتاہے حالانکہ لیاقت کچھ نہیں۔
حضرت نے فرمایا کہ :۔
پادریوں نے ہندوستانیوں کے اخلاق خراب کر دیئے ہیں اور ان کو مذہب فروش بنادیا ہے ۔ کئی عیسائی دیکھے ہیں کہ وہ ہندوئوں یا مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان یا ہندو ہونے کے واسطے تیار ہیں لیکن عیسائی لوگ ہم کو اس قدر تنخواہ دیتے ہیں تم کیا تنخواہ دو گے ؟ جدھر سے زیادہ تنخواہ کی امید ہو اُدھر ہی جھک پڑتے ہیں اور بسا اوقات کبھی ادھر سے اور کبھی ادھر سے بطور نیلام کے اپنی قیمت کے بڑھانے میں کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہ بد اخلاقی ہندوستان میں پادریوں نے ہی پھیلائی ہے ورنہ ان سے پہلے ہندوستانی لوگ مذہب کے معاملہ میں ایسے رذیل اخلاق رکھنے والے نہ تھے۔
آدمیوں کو چاہئے کو جب ایک مذہب کو سچا سمجھ کر قبول کرے تو پھر اس پر استقامت دکھلائے ۔ خدا تعالیٰ رازق ہے وہ خود تمام سامان مہیا کر دے گا۔ جب انسان خدا تعالیٰ کے واسطے کوئی کام کرتاہے تو پھر اس کو موت کی پروا نہیں رہتی اور نہ اُسے خدا تعالیٰ ضائع کرتاہے ۔ اندرونی تقویٰ اور طہارت کا خیال کرنا چاہئے ۔ جن لوگوں کے دل اور دماغ میں صرف دنیا ہی رہ جاتی ہے وہ کس کام کے آدمی ہیں۔ جو لوگ سچے دل کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُن کی دستگیری کرتاہے ۔ اس قسم کے عیسائی نو مسلموں کی نسبت تو ہم نے ان لوگوں کو بہت ثابت قدم دیکھا ہے جو ہندوئوں میں سے مسلمان ہوکر ہمارے پاس آئے ہیں۔ جیسا کہ شیخ عبدالرحیم ہیں۔ سردار فضل حق ہیں۔ شیخ عبدالرحمن صاحب،شیخ عبدالعزیز صاحب ہیں۔ ان لوگوں نے اسلام کی خاطر بہت دُکھ اُٹھائے مگراپنے ایمان پر قائم رہے۔ جب سردار فضل حق صاحب مسلمان ہوئے تو اُن کو قتل کرنے کے واسطے کئی سکھ یہاں آئے تھے مگر خدا تعالیٰ نے اُن کو بچایا اور سردار صاحب نے کسی کا خوف نہ کیا۔ ایسا ہی شیخ عبدالرحیم صاحب کے چہرے سے نیک بختی کے آثار نمایاں ہیں۔ شیخ عبدالرحمن صاحب کو ایک دفعہ اُن کے رشتہ دار دھوکے سے لے گئے تھے اور وہاں