مدت کی بات ہے میں نے ایک خواب دیکھا تھاکہ میں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور باغ کی طرف جاتاہوں اور میں اکیلاہوں۔ سامنے سے ایک لشکر نکلا جس کا یہ ارادہ ہے کہ ہمارے باغ کو کاٹ دیں ۔ مجھ پر ان کا کوئی خوف طاری نہیں ہوا۔ اور میرے دل میںیہ یقین ہے کہ میں اکیلا ان سب کے واسطے کافی ہوں۔ وہ لو گ اندر باغ میں چلے گئے اوراُن کے پیچھے میں بھی چلا گیا۔ جب میں اندر گیا تو میں دیکھتاہوں کہ وہ سب کے سب مرے پڑے ہیںاور ان کے سر اور ہاتھ اور پائوں کاٹے ہوئے ہیں اور اُن کی کھالیں اُتری ہوئی ہیں۔ تب خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا نظارہ دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہوئی اور میں رو پڑا کہ کس کا مقدور ہے کہ ایسا کر سکے۔ فرمایا: اس لشکر سے ایسے ہی آدمی مراد ہیں جو جماعت کو مرتد کرنا چاہتے ہیں اور ان کے عقیدوں کو بگاڑنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے باغ کے درختوں کو کاٹ ڈالیں۔ خدا تعالیٰ اپنی قدرت نمائی کے ساتھ ان کو ناکام کرے گا۔ اور ان کی تمام کوششوں کو نیست و نابود کردے گا۔ فرمایا: یہ جو دیکھا گیا ہے کہ اس کا سر کٹا ہواہے ۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ان کا تمام گھمنڈ ٹوٹ جائے گا اور ان کے تکبر اور نخوت کو پامال کیا جائے گا۔ اور ہاتھ ایک ہتھیار ہوتاہے جس کے ذریعہ سے انسان دشمن کا مقابلہ کرتاہے ۔ ہاتھ کے کاٹے جانے سے مراد یہ ہے کہ ان کے پاس مقابلہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا اور پائوں سے انسان شکست پانے کے وقت بھاگنے کا کام لے سکتاہے لیکن ان کے پائوں بھی کٹے ہوئے ہیں جس سے یہ مراد ہے کہ ان کے واسطے کوئی جگہ فرار کی نہ ہوگی اور یہ جو دیکھا گیا ہے کہ ان کی کھال بھی اُتری ہوئی ہے اس سے یہ مراد ہے کہ اُن کے تمام پردے فاش ہو جائیں گے اور ان کے عیوب ظاہر ہو جائیں گے ۔ دلیل ِ صداقت فرمایا:اگرہم افتراکرتے ہیں تو خدا تعالیٰ خود ہمارا دشمن ہے اور ہمارے لئے بچائو کی صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن اگر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور مصائب ِ اسلامی کے واسطے اللہ تعالیٰ نے خود ایک سامان بنایا ہے تو اس کا مقابلہ خدا تعالیٰ کو کس طرح پسند آسکتاہے ۔ بڑا بد قسمت ہے جو اس کو توڑنا چاہتاہے