جاتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کی جو راہیں خود ہی مقرر فرما دی ہیں وہ کچھ کم نہیں ۔ خدا تعالیٰ ان باتوں سے راضی ہوتاہے کہ انسان عفت اور پرہیز گاری اختیار کرے۔ صدق و صفا کے ساتھ اپنے خدا کی طرف جھکے ۔ دنیوی کدورتوں سے الگ ہو کر تبتل الیٰ اللہ اختیار کرے۔ خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر اختیار حاصل ہے۔ خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے۔ نماز انسان کو منزہ بنا دیتی ہے ۔ نماز کے علاوہ اُٹھتے بیٹھتے اپنا دھیان خدا تعالیٰ کی طرف رکھے یہی اصل مدعا ہے جس کو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تعریف میں فرمایا ہے کہ وہ اُٹھتے بیٹھتے خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور اس کی قدرتوں میں فکر کرتے ہیں ۔ ذکر اور فکر ہر دو عبادت میں شامل ہیں۔ فکر کے ساتھ شکرگذاری کا مادہ بڑھتا ہے ۔ انسان سوچے اور غور کرے کہ زمین اور آسمان ، ہوااور بادل ، سورج اور چاند ، ستارے اور سیارے ۔ سب انسان کے فائدے کے واسطے خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ فکر معرفت کو بڑھاتا ہے۔
غرض ہر وقت خدا کی یاد میں اس کے نیک بندے مصروف رہتے ہیں۔ اسی پر کسی نے کہا کہ جو دمغافل سو دم کافر۔ آج کل کے لوگوں میں صبر نہیں ۔ جو اس طرف جھکتے ہیں وہ ابھی ایسے مستعجل ہوتے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ پھونک مار کر ایک دم میں سب کچھ بنا دیا جائے اور قرآن شریف کی طرف دھیان نہیں کرتے کہ اس میں لکھا ہے کہ کوشش اور محنت کرنے والوں کو ہدایت کا راستہ ملتاہے ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ تمام تعلق مجاہدہ پر موقوف ہے ۔ جب انسان پوری توجہ کیسا تھ دُعا میں مصروف ہوتاہے تو اس کے دل میں رقت پید اہوتی ہے۔ اور وہ آستانہ الٰہی پر آگے سے آگے بڑھتا ہے تب وہ فرشتوں کے ساتھ مصافحہ کرتاہے ۔
ہمارے فقراء نے بہت سی بدعتیں اپنے اندر داخل کر لی ہیں۔ بعض نے ہندوئوں کے منتر بھی یاد کئے ہوئے ہیں اور ان کو بھی مقدس خیال کیا جاتاہے ۔ ہمارے بھائی صاحب کو ورزش کا شوق تھا۔ اُن کے پاس ایک پہلوان آیا تھا۔ جاتے ہوئے اُس نے ہمارے بھائی صاحب کو الگ لیجا کر کہا کہ میں ایک عجیب تحفہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بہت ہی قیمتی ہے۔ یہ کہکر اُس نے ایک منتر پڑھ کر اُن کو سُنایا اور کہا کہ یہ منتر ایسا پُرتاثیر ہے کہ اگر ایک دفعہ صبح کے وقت اس کو پڑھ لیا جاوے تو پھر سارا دن نہ نماز کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ وضو کی ضرورت ۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے کلام کی ہتک کرتے ہیں۔ وہ پاک کلام جس میں ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ( البقرۃ: ۳) کا وعدہ دیا گیا ہے خود اسی کو چھوڑ کر دوسری طرف بھٹکتے پھرتے ہیں۔ انسان کے ایمان میں ترقی تب ہی ہوسکتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ پر چلے اور خدا پر اپنے توکل کو قائم کرے۔ ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال ؓ کو دیکھا کہ وہ کھجوریں جمع کرتاتھا۔ آپ نے فرمایا کہ کس لیے ایسا کرتاہے ۔ اس نے کہا کہ کل کے لیے جمع کرتاہوں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تو کل کے خدا پر ایمان نہیں رکھتا؟ لیکن یہ بات بلال ؓ کو فرمائی ہر کسی کو نہیں فرمائی۔ اور ہر ایک کو وعظ اور نصیحت اس کی برداشت کے مطابق کیا جاتاہے۔