بہترین ریاضت :۔
ایک شخص نے عرض کی کہ میں پہلے فقراء کے پاس پھرتا رہا اور کئی طرح کی مشکل ریاضتیں انہوں نے مجھ سے کرائیں۔ اب میںنے آپ کی بیعت کی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟
فرمایا:۔
نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو ۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکام شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے ۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتاہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتاہے۔
اختلاف ِ فقہاء :۔ فرمایا:۔
آج کل علماء کے درمیان باہم مسائل میں اس قدر اختلاف ہے کہ ہر ایک مسئلہ کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہے ۔ جیسا کہ لاہور میں ایک طبیب غلام دستگیر نام تھا۔ وہ کہا کرتاتھا کہ مریضوں اور اس کے لواحقین کی اس ملک میں رسم ہے کہ وہ طبیب سے پوچھا کرتے ہیں کہ یہ دواگرم ہے یا سرد؟ تو میں نے اس کے جواب میں ایک بات رکھی ہوئی ہے ۔ میں کہہ دیا کرتا ہوں کہ اختلاف ہے۔ اول تو اس اختلاف کے سبب کئی فرقے ہیں۔ پھر مثلاً ایک فرقہ حنفیوں کا ہے ان میں آپس میں اختلاف ہے ۔ پھر خود امام ابو حنیفہ ؒ کے اقوال میں اختلاف ہے۔
آج کل کے پیر:۔ فرمایا:۔
آج کل کے پیراکثر فاحشہ عورتوں کو مرید بناتے ہیں ۔ بعض ہندوئوں کے پیر ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ اپنی بدکرداریوں پر اور اپنے کفر پر برابر قائم رہتے ہیں۔ صرف پیر کو چندہ دے کر وہ مرید بن سکتے ہیں۔ اعمال خواہ کیسے ہی ہوں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا۔ اگر ایسا کرنا جائز ہوتاتو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابو جہل کو بھی مرید بنا سکتے تھے وہ اپنے بُتوں کی پرستش بھی کرتا رہتا اور اس قدر لڑائی جھگڑے کی ضرورت نہ پڑتی مگر یہ باتیں بالکل گناہ ہیں۔ ۱؎