چکڑالوی لوگ دھوکہ دیتے ہیں کہ کیا قرآن محتاج ہے۔ اے نادانو! کیا تم بھی محتاج نہیں ؟ اور خدا تعالیٰ کی ذات کی طرح بے احتیاج ہو۔ قرآن تمہارا محتاج نہیں پر تم محتاج ہو کہ قرآن کو پڑھو سمجھو اور سیکھو ۔ جبکہ دُنیا کے معمولی کاموں کے واسطے تم اُستاد پکڑتے ہو تو قرآن شریف کے واسطے اُستاد کی ضرورت کیوں نہیں ؟ کیا بچہ ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی قرآن پڑھنے لگے گا؟ بہرحال معلم کی ضرورت ہے ۔ جب مسجد کا ملاں ہمارا معلم ہو سکتا ہے تو کیا وہ نہیں ہو سکتا جس پر خود قرآن شریف نازل ہوا ہے۔ دیکھو قانون سرکاری ہے اس کے سمجھنے اور سمجھانے کے واسطے بھی آدمی مقرر ہیں حالانکہ اس میں کوئی ایسے معارف اور حقائق نہیں جیسے کہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب میں ہیں۔ یاد رکھو کہ سارے انوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہیں۔ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتے ان کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ بجز نورِ اتباع خدا تعالیٰ کو بھی پہچاننا مشکل ہے۔ شیطان شیطان اسی واسطے ہے کہ اس کو نورِ اتباع حاصل نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال دُنیا میں رہے۔ متقی کافرض ہونا چاہیئے کہ وہ اس بات کو محبت کی نگاہ سے دیکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریق عمل تھا۔ ۱؎ ۲۵؍جولائی ۱۹۰۷ئ؁ آج کل کے فقیر اور فقراء :۔ فرمایا:۔ میں تعجب کرتاہوں کہ آج کل بہت لوگ فقیر بنتے ہیں مگر سوائے نفس پرستی کے اور کوئی غرض اپنے اندر نہیں رکھتے۔ اصل دین سے بالکل الگ ہیں جس دُنیا کے پیچھے عوام لگے ہوئے ہیں اسی دُنیا کے پیچھے وہ بھی خراب ہو رہے ہیں۔ توجہ اور دم کشی اور منتر جنتر اور دیگر ایسے امو رکو اپنی عبادت میں شامل کرتے ہیں جن کا عبادت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف دُنیا پرستی کی باتیں ہیں اور ایک ہندو کافر اور ایک مشرک عیسائی بھی ان ریاضتوں اور ان کی مشق میں ان کے ساتھ شامل ہو سکتابلکہ اُن سے بڑھ سکتا ہے اصلی فقیر تو وہ ہے جو دنیا کی اغراض فاسدہ سے بالکل الگ ہو جائے اور اپنے واسطے ایک تلخ زندگی قبول کرے تب اس کو حالتِ عرفان حاصل ہوتی ہے اور وہ ایک قوتِ ایمانی کو پاتا ہے ۔ آج کل کے پیرزادے اور سجادہ نشین نماز جو اعلیٰ عبادت ہے اس کی تو پروانہیں کرتے یا ایسی جلدی جلدی ادا کرتے ہیں جیسے کہ کوئی بیگار کاٹنی ہوتی ہے اور اپنے اوقات کو خود تراشیدہ عبادتوں میں لگاتے ہیں جو خدا اور رسول نے نہیں فرمائیں۔ ایک ذکر ارّہ بنایا ہوا ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے کو سخت نقصان پہنچتا ہے ۔ بعض آدمی ایسی مشقوں سے دیوانے ہو جاتے ہیں۔ ان کو جاہل لوگ ولی سمجھنے لگ