غرق ہونے لگے تو اس وقت دل کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ کیا ایسے وقت میں انسان گناہگاری کے خیالات دل میں لا سکتا ہے ؟ ایسا ہی زلزلہ اور طاعون کے وقت میں چونکہ موت سامنے آجاتی ہے اور اس واسطے گناہ نہیں کر سکتا اور نہ بدی کی طرف اپنے خیالات کو دوڑا سکتا ہے ۔ پس اپنی موت کو یاد رکھو۔ خد اتعالیٰ کا سلام :۔ ایک دوست نے عرض کی کہ مخالفین نے ہم کو سلام کہنا چھوڑ دیا۔ فرمایا:۔ تم نے اُن کے سلام سے کیا حاصل کر لینا ہے۔ سلام تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ خدا تعالیٰ کا سلام وہ ہے جس نے ابراہیم ؑ کو آگ سے سلامت رکھا۔ جس کو خدا کی طرف سے سلام نہ ہو بندے اس پر ہزار سلام کریں اس کے واسطے کسی کام نہیں آسکتے ۔ قرآن شریف میں آیا ہے ۔ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ( یٰس ٓ : ۵۹)ایک دفعہ ہم کو کثرت پیشاب کے باعث بہت تکلیف تھی ۔ ہم نے دُعا کی ۔ الہام ہوا۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اسی وقت تمام بیماری جاتی رہی۔ سلام وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طر ف سے ہو ۔ باقی سب رسمی سلام ہیں۔ حدیث کی اہمیت :۔ ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں ایک فقہی مسئلہ پیش کرکے درخواست کی کہ اس کا جواب صرف قرآن شریف سے پیش کیا جاوے۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ متقی کے واسطے مناسب ہے کہ اس قسم کا خیال دل میں نہ لاوے کہ حدیث کوئی چیز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل تھا وہ گویا قرآن کے مطابق نہ تھا۔ آج کل کے زمانہ میں مرتد ہونے کے قریب جو خیالات پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خیال حدیث شریف کی تحقیر کا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کاروبار قرآن شریف کے ماتحت تھے۔ اگر قرآن شریف کے واسطے معلم کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن رسول پر کیوں اُترتا۔ یہ لوگ بہت بے ادب ہیں کہ ہر ایک اپنے آپ کو رسول کا درجہ دیتاہے اور ہر ایک اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہے کہ قرآن شریف اسی پر نازل ہوا ہے ۔ یہ بڑی گستاخی ہے کہ ایک چکڑا لوی مولوی جو معنی قرآ ن کے کرے اس کو مانا جاتا ہے اور قبول کیا جاتاہے اور خدا تعالیٰ کے رسول پر جو معنے نازل ہوئے اُن کو نہیں دیکھا جاتاہے۔ خداتعالیٰ نے تو انسانوں کو اس امر کا محتاج پید ا کیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی رسول مامور مجدد ہو۔ مگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ہر ایک رسول ہے اور اپنے آپ کو غنی اور غیر محتاج قرار دیتے ہیں۔ یہ سخت گناہ ہے۔ ایک بچہ محتاج ہے کہ وہ اپنے والدین وغیرہ سے تکلم سیکھے اور بولنے لگے ۔ پھر اُستاد کے پاس بیٹھ کر سبق پڑھے۔ جائے استاد خالی است ۔