حضرت نے فرمایاکہ :۔
جگانے والے کا وجود بھی خواب کا ایک جزو ہوتاہے اور اس کے نام میں اس خواب کے متعلق تعبیر ہوتی ہے ۔ فرمایا:۔
اگر خدا تعالیٰ کا منشاء نہ ہوتو کوئی جگا نہیں سکتا۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتاہے۔
تندرستی ہزارنعمت ہے:۔
مخدومی اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب بھی گیارہ بجے کی گاڑی پر شملہ سے بٹالہ پہنچ گئے تھے اور قادیان جانے کو تیار تھے لیکن ایک آدمی نے سٹیشن پر اُن کو اطلاع کر دی تھی کہ حضرت صاحب اسی جگہ ہیں۔ وہ بھی حضرت کی خدمت میں تیسرے پہر تک حاضر رہے اور پھر لاہور چلے گئے ۔ شیخ صاحب موصوف ولایت کا ذکر کرتے تھے کہ وہاں بعض چشمے ایسے عمدہ ہوتے ہیں اور سمندر کے کنارے بعض جگہ ایسی عمدہ ہوتی ہیں کہ چند روز اگر لوگ وہاں جا کر رہیں تو صحت بہت عمدہ حالت میں ہو جاتی ہے۔
حضرت نے فرمایا کہ :۔
صحت عمدہ شئے ہے تمام کاروبار دینی اور دنیاوی صحت پر موقوف ہیں۔ صحت نہ ہوتو عمر ضائع ہو جاتی ہے۔ ۱؎
۲۱؍جولائی ۱۹۰۷ئ
آخری فیصلہ:۔
ڈاکٹر عبدالحکیم نے حضرت کے متعلق جو الہام شائع کیا ہے اس کا ذکر تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ: ۔
یہ آخری مرحلہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اب آخری فیصلہ کی تقریب پید کر دی ہے ۔ براہین احمدیہ کے آخر میں وحی الٰہی درج ہے اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنَا ( الفتح: ۲) وہ یہی فتح ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ایسے امور ظاہر کرے گا کہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اب آخری فیصلہ ہے۔
ایک دوست نے عرض کی کہ حضور کا ایک پُرانا الہام ہے لَا تَنْقَطِعُ الْاَعْدَائُ اِلَّا بِمَوْتِ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ۔ترجمہ:دشمن نہیں منقطع ہوں گے مگر ان میں سے ایک کی موت کے ساتھ فرمایا:۔