کی گئی تھی اور بڑے زور شور سے ہر جگہ ٹیکہ لگایا جاتا تھا۔ اس وقت ہم نے بھی ایک کتاب بنام کشتی نوح لکھی تھی جس میں ہم نے یہ بات ظاہر کی تھی کہ اس بیماری سے بچنے کا اصلی اور حقیقی علاج یہ ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ اس وقت ایک انگریز اور ایک دیسی افسر جو کہ ای ۔ اے ۔ سی تھا ہر دو ٹیکہ لگانے کے واسطے قادیان میں بھی آئے تھے تب ہم نے اپنی کتاب کا ایک نسخہ اس کو بھیجا تھا جس کو دیسی افسر نے پڑھ کر اس انگریز کو سُنایا۔ اس کو سُن کر انگریز نے کہا کہ سچ تو یہی ہے جو اس کتاب میں لکھا ہے باقی تو سب حیلے ہی ہیں اصل علاج یہی ہے ۔
غرض خداتعالیٰ سے جو ڈرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر رحم کرتاہے۔ میں حیران ہوں کہ میں یہ باتیں کس طرح لوگوں کے دلوں میں ڈال دوں کیونکہ یہ آسمانی اور روحانی باتیں ہیں ۔ اور زمینی لوگ اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ ابھی یہ عذاب ختم ہونے والا نہیں ہے جب تک لوگ اپنی اصلاح نہ کریں۔ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوتا رہے گا۔ خالی ان ظاہری حیلوں سے کچھ نہیں بنتا خواہ چوہوں کو مارا جائے خواہ مچھروں کو اور خواہ کوئوں کو ۔ جب تک کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف نہ جھکیں گے ان پر کس طرح رحم ہو سکے گا۔
ایک گائوں کے متعلق لکھا تھا کہ وہ بالکل ویران ہو گیا۔ پُرانی کتابوں سے معلوم ہوتاہے کہ طاعون نے بعض جگہ شہروں کے شہر بالکل ویران کر دیئے اور جب سب آدمی مرگئے ۔ تب یہ بیماری جانوروں پر پڑی اور جب وہ بھی مرگئے تو پھر جنگل کے سانپوں پر پڑی اور وہ ہلاک ہو کر بالکل ویرانہ رہ گیا۔ صدہا کو س تک آبادی کا نام و نشان مٹ گیا۔ خدا تعالیٰ کے رحم کے سوائے کہیں گذارہ نہیں ۔ جو لوگ درد دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُن پر اپنا رحم کرتاہے اور ان کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھتاہے ۔ مجھے خد ا تعالیٰ کی طرف سے بتلایا گیا ہے کہ ابھی بیماری اس سے کبھی سخت پڑنے والی ہے ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ سال وہ سختی آوے یا درمیان میں ایک سال نرم ہو کر پھر سختی دکھاوے بہرحال آئندہ آنے والی طاعون گذشتہ سے بہت ہی سخت ہے اور ایسا ہی مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ایک سخت زلزلہ ابھی آنے والا ہے ۔ افسوس ہے کہ لوگوں کو ان باتوں کی طرف خیال نہیں کہ خدا تعالیٰ کا عذاب کس طرح بھڑک رہا ہے۔ باوجود اس کے فریب اور چالبازیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ دُنیا کی حرکت بے انصافی کی طرف ہے۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے تحصیلدار صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے آپ کے واسطے مکان کا عمدہ انتظام کیا اور ان کی شرافت کی تعریف کی۔
خواب کے متعلق ایک نکتہ :۔
مرزا اکبر بیگ صاحب نے حضرت کی خدمت میں اپنا ایک خواب بیان کیا کہ میں ایک عمدہ خواب دیکھ رہا تھا کہ مجھے شخص محمد حسین نے فوراً جگا دیا۔