کسی کو زندہ نہ سمجھے۔ صحابہ کرام ؓ کس قدر دردو الم میں تھے جب مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہٖ الرُّسُلُ( آل عمران : ۱۴۵) سُنا تو سب کو ٹھنڈ پڑگئی ۔ مگر یاد رکھو ان وعظوں سے کچھ نہیں بنتا جب تک ساتھ دُعا اور اپنا عملی نمونہ نہ ہو۔ ہر جمعہ کس قدر مولوی سر کھپاتے ہیں مگر خاک بھی اثر نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ جو کچھ کہتے ہیں اُن کا خود اس پر عمل نہیں۔ جتنے پیغمبر دُنیا میں آئے ان میں سے کسی نے بھی وعظوں پر اتنا سر نہیں مارا۔ جتنا دُعا و عملی نمونہ کام دیتاہے سو اُسے میسر لانے کی کوشش کرو۔۱؎ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۷ئ؁ طاعون سے بچنے کا حقیقی علاج :۔ حضرت ام المومنین مع صاحبزادگان و اقارب و خدام اٹھارہ کس بغرض تبدیل ہوا۔ ۴ ؍جولائی ۱۹۰۷ئ؁ کو لاہو رکی طرف روانہ ہوئے تھے اور ۱۴ ؍جولائی ۱۹۰۷ئ؁ کو بروز اتوار ایک بجے دن کے بٹالہ میں واپس پہنچ گئے ۔ اس واسطے حضرت اقدس مع چند خدام کے ۱۴ ؍ جولائی کی صبح کو بٹالہ تک تشریف لے گئے تھے۔ چونکہ گرمی کا موسم ہے اس واسطے صبح سویرے پانج بجے کے قریب یہاں سے روانہ ہوئے۔ آپ پالکی میں بیٹھے ہوئے تھے بہت سے عاشقانہ مزاج خدام پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے بٹالہ تک گئے۔ قریب دس بجے کے آپ بٹالہ میں پہنچے ۔ بٹالہ کے شریف اور لائق تحصیلدار جناب رائے جسمل صاحب کا شکریہ ہے کہ جب ان کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت اقدس تشریف لاتے ہیں اور چند گھنٹہ وہاں قیام کریں گے تو انہوںنے سٹیشن کے پاس ہی اپنے مکان کے متصل ایک عمدہ آرام کی جگہ مہیا کردی۔ تحصیلدار صاحب خود بھی حضرت کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے ۔ اثناء گفتگو میں انہوںنے فرمایا کہ میں شہر سے باہر اسی جگہ رہتاہوں۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ اسی جگہ رہنا بہتر ہے کیونکہ شہر میں اکثر بیماری کا خوف ہوتاہے اور گذشتہ موسم میں بٹالہ میں بہت طاعون تھی اور اگرچہ اب آرام ہے تاہم جائے امن نہیں ۔ کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ لوگ اصلاح ِ عمل کی طرف توجہ نہیں کرتے اور جب تک کہ اصلاح عمل نہ ہوگی یہ عذاب دور نہ ہوگا۔ پہلے پہل جبکہ طاعون سے بچنے کے واسطے ٹیکے کی تجویز