تک رنگ و بو و مزانجاست سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔ ۱؎
۱۲؍جولائی ۱۹۰۷ئ
(قبل از خطبہ جمعہ)
احسان اور دُعا:۔
باہر سے آئے ہوئے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور میری بیوی کسی صورت میں مسلمان نہیں ہوتی۔ کیا کروں میں تو اسے بہتیرا سمجھا چکا ہوں ۔ فرمایا:۔
دیکھو۔ زبانی وعظوں سے اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا اپنی حالت درست کرکے اپنے تئیں نمونہ بنانے سے ۔ تم اپنی حالت کو ٹھیک کرو اور ایسے بنو کہ لوگ بے اختیار بول اُٹھیں کہ اب تم وہ نہیں رہے۔ جب یہ حالت ہوگی تو تمہاری بیوی کیا کئی لوگ تمہارا مذہب قبول کر لیں گے ۔ حدیث میں آیا ہے ۔ خَیْرُ کُمْ خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِہٖ ۔ پس جب بیوی سے تمہارا اچھا سلوک ہوگا وہ تو خود بخود محجوب ہوکر تمہاری مخالفت چھوڑ دے گی اور دل سے جان لے گی کہ یہ مذہب بہت ہی اچھا ہے جس میں ایسے نرم و عمدہ سلوک کی ہدایت ہوتی ہے پھر وہ خواہ مخواہ متابعت کرے گی۔ احسان تو ایسی چیز ہے کہ اس سے ایک کُتا بھی نادم ہو جاتاہے چہ جائیکہ ایک انسان ۔
اس شخص نے عرض کی کہ حضور وہ تو کبھی نہیں ماننے کی۔
فرمایا:۔
دیکھو ۔ مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی دل میں تبدیلی پیدا کرنا چاہتاہے تو کسی چھوٹی سی بات سے کر دیتا ہے ۔ دُعا کرنی چاہئے کہ دل سے نکلی ہوئی دُعا ضائع نہیں جاتی اور لطیف پیرایہ میں نصیحت بھی کرتے رہیں مگر سختی نہ کریں۔ اُسے سمجھائیں کہ ہمارا وہی اسلام دین ہے۔ یہ کوئی نیا مذہب نہیں۔ وہی نمازو ہی روزہ وہی حج وہی زکوٰۃ ۔ صرف فرق اتنا ہے کہ یہ باتیں جو صرف جسم بے رُوح رہ گئی ہیں۔ ہم ان میں اخلاص کی خاص روح پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے اثر جو مرتب نہیں ہوتے ہم چاہتے ہیں کہ ایسے طور سے ادا کئے جاویں کہ اُن میں اثر پیدا ہوں۔ عقیدہ میں یہ بات ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو ہم اور نبیوں کی طرح فوت شدہ مانتے ہیں اور ایک مسلمان کی محبت جو اُسے اپنے متبوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ جب آپ فوت ہوگئے تو اُن کے بعد