بآواز بلند اپنی زبان میں دُعا:۔
ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور امام اگر اپنی زبان میں ( مثلاً اردو میں) بآواز بلند دُعا مانگتا جائے اور پچھلے آمین کرتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دُعائیں نماز میں کر لیا کرو۔
فرمایا:۔
دُعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً( الاعراف: ۵۶)اور دُوْنَ الْجَھْرِمِنَ الْقَوْلِ( الاعراف :۲۰۶)
عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں۔ فرمایا:۔
ہاں ادعیۂ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آچکی ہیں وہ بے شک پڑھ لی جاویں۔ باقی دُعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل ہی میں پڑھنی چاہئیں۔
کنویں کو پاک کرنے کے بارہ میں اُصولی فتویٰ :۔
سوال ہوا کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ جب چُوہا یا بلی یا مُرغی یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مرجاویں تو اتنے دَلْو پانی نکالنے چاہئیں۔ اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے ؟ پہلے تو ہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ بو مزا نہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے ۔
فرمایا:۔
ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیاہے۔ یہ جو حساب ہے کہ اتنے دَلو نکالو اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے ۔ یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس پر ہمارا عمل ہے ۔
عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنت ِ صحیحہ سے پتہ نہ ملے وہاں حنفی فقہ پر عمل کر لو۔ فرمایا:۔
فقہ کی معتبر کتابوں میں کب ایسا تعین ہے ’’ ہاں نجات المومنین ‘‘ میں لکھاہے ۔ سو اس میں تو یہ بھی لکھا ہے۔
سرٹوئے وچہ دے کر بیٹھ نماز کرے
کیا اس پر کوئی عمل کرتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جبکہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز منع ہے۔ پس ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو۔
میں تمہیں ایک اصل بتا دیتاہوں کہ قرآن مجید آیا ہے ۔ وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ( المدثر : ۶)جب پانی کی حالت اس قسم کی ہو جائے جس سے صحت کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہئے ۔ مثلاً پتے پڑجاویں یا کیڑے وغیرہ ( حالانکہ اس پر یہ ملاں وغیرہ نجس ہونے کا فتویٰ نہیں دیتے ) باقی یہ کوئی مقدار مقرر نہیں ۔ جب