کی جلا وطنی سے آریوں کو پورے طور پر نصیحت حاصل نہیں ہوئی۔ اس واقعہ کو وہ صرف ایک شخصی وبال خیال کرتے ہیں اور قومی وبال نہیں سمجھتے ۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ گورنمنٹ ان لوگوں کے ایسے حالات دیکھ کر اب ان کی نسبت ضرور محتاط رہے گی۔ ان کو چاہئے کہ گورنمنٹ کے متعلق اپنے رویہ کو ہمیشہ کے واسطے درست کر لیں۔
علم طب کی بنیاد ظنّیات پر ہے:۔ فرمایا:
علم طب کی بناء بھی ظنیات پر ہے ۔ جب مرض الموت آتی ہے تو کوئی دواشفا نہیں دیتی بلکہ ہر ایک دو ا اُلتی پڑتی ہے ۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ شفا دینا چاہتاہے تو معمولی دوائی بھی کار گر
ہو جاتی ہے۔ ۱؎
۹؍جولائی ۱۹۰۷ئ
نسل کشی کیلئے سانڈرکھنا:۔
ایک شخص نے سوال کیا کہ خالصۃً لوجہِ اللہ نسل افزائی کی نیت سے اگر کوئی سانڈ چھوڑے تو کیا یہ جائز ہے ؟
فرمایا:۔
اَصْلُ الاَْشْیَائِ اِبَاحَۃٌ ۔ اشیاء کا اصل تو اِباحت ہی ہے۔ جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام فرمایا وہ حرام ہیں باقی حلال ۔ بہت سی باتیں نیت پر موقوف ہیں۔ میرے نزدیک تو یہ جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔
عرض کیا گیا کہ قرآن مجید میں آیاہے ۔ فرمایا:۔
میں نے جواب دیتے وقت اسے زیر نظر رکھ لیاہے وہ تو دیوتوں کے نام پر دیتے ۔ یہاں خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے۔ نسل افزائی ایک ضروری بات ہے ۔ خد اتعالیٰ نے قرآن مجید میں اَنْعَام وغیرہ کو اپنی نعمتوں سے فرمایا ہے۔ سو اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور قدر میں نسل کا بڑھا نا بھی ہے۔ پس اگر ایسا نہ ہوتو پھر چارپائے کمزور ہوں گے اور دُنیا کے کام بخوبی نہ چل سکیں گے اس لیے میرے نزدیک تو حرج کی بات نہیں۔ ہر ایک عمل نیت پر موقوف ہے۔ ایک ہی کام جب غیر اللہ کے نام پر ہو تو حرام اور اگر اللہ کے لیے ہو تو حلال ہوجاتا ہے۔