سے یہ بات بنائی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں جو ہم پر نازل ہواہے اور صرف اتفاقی طور پ رہمارے گھر کی حفاظت ہو رہی ہے تو چاہیئے کہ ہمارے مکذبوں میں سے بھی کوئی ایسا الہام شائع کرے تب اس کو جلد معلوم ہو جاوے گا کہ افتراء کا کیا نتیجہ ہے ۔ ‘‘ اس بات کو پڑھ کر بعض مخالف یہ کہتے ہیں کہ ہم مفتری نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ پر افتراء کریں۔ ہم کس طرح ایسا الہام شائع کر سکتے ہیں ؟
حضرت نے فرمایا:۔
یہی بات ہے جو ہم ان کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرکے کوئی شخص بچ نہیں سکتا ۔ اگر یہ کلام ہم پر خدا تعالیٰ کی طر ف سے نازل نہ ہوتا اور ہمارا افتراء ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کلمہ کے مطابق ہمارے گھر کی حفاظت کیوں کرتا ؟ جبکہ ایک کلام صریح الفاظ میں پورا ہوگیا ہے تو پھر اس کے ماننے میں کیا شک ہے ۔ لیکن ہم نے مخالفین کے واسطے فیصلہ کی دوسری راہ بھی بیان کر دی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ انسان کا افتراء ہے تو اسے لازم ہے کہ وہ قسم کھا کر ان الفاظ کے ساتھ بیان کرے کہ یہ انسان کا افتراء ہے ۔ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں وَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَحْیَ اللّٰہِ ۔اگر کوئی شخص ایسی قسم کھاوے تو خدا تعالیٰ اس قسم کا نتیجہ ظاہر کردے گا۔
چاہیئے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور جعفرز ٹلی لاہوری اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اور غزنوی صاحبان بہت جلد اس کی طرف توجہ کریں۔
ایک الہام کی تشریح :۔
ایک سوال پیش ہوا کہ حضور کو جو الہام ہواہے ’’ قرآن خد اکا کلام اور میرے منہ کی باتیں۔ ‘‘ اس الہام الٰہی میں میرے کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے ۔ یعنی کس کے منہ کی باتیں؟
فرمایا:۔
خدا کے منہ کی باتیں۔ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ میرے منہ کی باتیں ۔ اس طرح کے ضمائر کے اختلاف کی مثالیں قرآن شریف میں موجو دہیں۔ فرمایا:۔
بعض رویا یا الہامات ظاہر الفاظ میں منذر ہوتے ہیں اور مُلہم اس وقت ڈر جاتاہے اور خوف کھاتاہے مگر دراصل اس کے معنی کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ہم کو سخت درد گردہ تھا۔ کسی دوا سے آرام نہ ہوتاتھا۔ الہام ہوا ’’ الوداع‘‘ اس کے بعد درد بالکل یک دفعہ بند ہوگیا۔ تب معلوم ہو اکہ یہ الوداع درد کا تھا۔
آریہ کب سمجھیں گے :۔ فرمایا:
بعض اخبارات کے پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ لاجپت لائے اور اجیت سنگھ