انسان کہہ لیتاہے اور اقرار بھی کر لیتا ہے مگر اس کا پورا کرنا ہر ایک کاکام نہیں ۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا اس طرح سے پہچانا جاتاہے کہ جب انسان کا دنیوی مال میں نقصان ہو تو کس قدر درد اس کے دل کو پہنچتا ہے اور اس کے بالمقابل جب کسی دینی امر میں نقصان ہو جائے تو پھر کس قدر درد اس کے دل کو ہوتاہے ۔ انسان کو چاہیئے کہ اس شناخت کے واسطے اپنے دل کو ہی ترازو بنائے کہ دنیاوی نقصان کے واسطے وہ کس قدر بیقرار ہوتاہے اور چیختا چلا تا ہے اور پھر دینی نقصان کے وقت اس کا کیا حال ہوتا ہے ؟ بد ہے وہ شخص جو دوسرے کو دھوکا دیتاہے مگر بدتر وہ ہے جو اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتاہے ۔ دین کو مقدم نہیں کرتا اور خیال کرتاہے کہ میں دین کو مقدم کئے ہوئے ہوں۔ وہ سچے طور پر خداتعالیٰ کا فرمانبردار نہیں بنا اور ظن کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ جو شخص دوسرے پر ظُلم کرتاہے ممکن ہے وہ ظلم کرکے بھاگ جائے گا اور اس طرح اپنے آپ کو بچائے مگر وہ جس نے اپنی جان پر ظلم کیا وہ کہاں بھاگ کر جائے گا اور اس ظلم کی سزا سے کس طرح بچ سکے گا۔ مبارک ہے وہ جو دین کو اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم رکھتا ہے کیونکہ خدا بھی اُسے مقدم رکھتاہے ۔ حقیقۃ الوحی کو غور سے پڑھیں:۔ فرمایا:۔ ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ حقیقۃ الوحی کو اول سے آخر تک بغور پڑھیں بلکہ اس کو یاد کر لیں۔ کوئی مولوی ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ ہر قسم کے ضروری امور کا اس میں بیان کیا گیا ہے اور اعتراضوں کے جواب دیئے گئے ہیں۔ خواجہ غلام فرید ؒ صاحب کا ذکر خیر:۔ فرمایا:۔ خواجہ غلام فریدؒ صاحب کی سوانح کی ایک کتاب لکھی گئی ہے ۔ اس میں خواجہ صاحب نے جابجا ہماری تائید کی ہے۔ ایک جگہ لکھاہے کہ بعض مولویوں نے خواجہ صاحب مرحوم سے دریافت کیا تھا کہ آپ کیوں اُن کی تائید کرتے ہیں مولوی لوگ تو ان کوکافر قرار دیتے ہیں۔ تو انہوں نے کیا خوب جواب دیا کہ مولوی لوگوں نے پہلے کس کو مانا ہے اور کس کو کافر قرار نہیں دیا؟ ان کا تو کام ہی یہ ہے ان کی طرف مت خیال کروَ۔ فیصلہ کی آسان راہ:۔ ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں ذکر کیا کہ حضور کی اس تحریر پر جو اخبار میں چھپی ہے کہ اگر ہمارے مکذب ہمارے شائع کردہ الہام الٰہی اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ کو افتراء سمجھتے ہی اور یقین کرتے ہیں کہ محض ہم نے اپنے دل