کرتے ہیں ۔ ہر قسم کے مکرو فریب کے ساتھ لوگوں کو بہکاتے ہیں اور عیسائی بناتے ہیں ۔ خود انجیل اور تورات کا ترجمہ درترجمہ کرتے ہیں ۔ اصل کتاب ان کے پا س موجود نہیں۔ تراجم میں ہمیشہ تبدیلیاں کرتے ہیں اور انہی اپنے خیالات کے الفاظ کو دُنیا کے سامنے پیش کرکے بیان کرتے ہیں کہ خدا کاکلام ہے۔ یہ ایک طرح سے نبوت کا دعویٰ ہے ۔ دوسرے اس زمانہ کے فلسفی لوگ ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں اور رات دن مادی دُنیا کی طرف ایسے جھکے ہوئے ہیں کہ دین کو کچھ نہیں سمجھتے بلکہ دین کو غیر ضروری اور اپنی دنیوی ترقی کی راہ میں ایک حارج یقین کرتے ہیں۔
وقت کے مرسل کو ماننا ضروری ہے:۔ فرمایا:۔
خدا تعالیٰ کی عدول ِ حکمی سے کوئی شخص کس طرح بچ سکتا ہے ۔ جو لوگ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے مرسل کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کی عدول حکمی کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو یہود اور عیسائی تھے وہ صاحب ِ شریعت تھے۔ نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے۔تمام انبیاء کو مانتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے کے سبب وہ کافر قرار دیئے گئے۔ اس زمانہ کے لوگ جو نہ صرف ہمارے مخالف ہیں بلکہ ہم کو کافر قرار دیتے ہیں وہ بموجب حدیث نبوی ؐ مومن کو کافر کہہ کر خود کافر بنتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
معلَّق مال پر زکوٰۃ واجب نہیں:۔
ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتاہے اور اُگراہی میں پڑا ہوتاہے اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔
جو مال معلّق ہے اس پر زکوٰۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے لیکن تاجر کو چاہیئے کہ حیلے بہانے سے زکوٰۃ کو نہ ٹال دے۔ آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتاہے۔ تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلّق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوٰۃ دے کر خد اتعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔ بعض لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے ۔
دین کو دُنیا پر مقدم رکھنا چاہیئے:۔فرمایا:۔
دین کو دُنیا پر مقدم رکھنا نہایت مشکل امر ہے ۔ کہنے کو تو