بلا تاریخ:۔ احسان دل کو مسخر کر لیتاہے :۔ فرمایا کہ :۔ احسان ایک نہایت عمدہ چیز ہے ۔ اس سے انسان اپنے بڑے بڑے مخالفوں کو زیر کر لیتا ہے چنانچہ سیالکوٹ میں ایک شخص تھا جو کہ تمام لوگوں سے لڑائی رکھتا تھا اور کوئی ایسا آدمی نہ ملتا تھا جس سے اس کی صُلح ہو۔ یہاں تک کہ اس کے بھائی اور عزیز و اقارب بھی اس سے تنگ آچکے تھے ۔ اُس سے میں نے بعض دفعہ معمولی سا سلوک کیا اور وہ اس کے بدلہ میں کبھی ہم سے بُرائی سے پیش نہ آتا بلکہ جب ملتا تو بڑے ادب سے گفتگو کرتا۔ اسی طرح ایک عرب ہمارے ہاں آیا اور وہ وہابیوں کا سخت مخالف تھا یہاں تک کہ جب اس کے سامنے وہابیوں کا ذکر بھی کیا جاتاتو گالیوں پر اُتر آتا۔ اس نے یہاں آکر بھی سخت گالیاں دینی شروع کیںاور وہابیوں کو بُرا بھلا کہنے لگا۔ ہم نے اس کی کچھ پروا نہ کرکے اس کی خدمت خوب کی اور اچھی طرح سے اس کی دعوت کی۔ اور ایک دن جبکہ وہ غصہ میں بھرا ہوا وہابیوں کو خوب گالیاں دے رہا تھا کسی شخص نے اس کو کہا کہ جس کے گھر تم مہمان ٹھہرے ہو وہ بھی تو وہابی ہے۔ اس پر وہ خاموش ہوگیا اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا ۔ کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ خیر وہ شخص چند دن کے بعد چلا گیا۔ اس کے بعد ایک دفعہ لاہور میں مجھ کو پھر ملا۔ اگرچہ وہ وہابیوں کی صورت دیکھنے کا بھی روادارنہ تھا مگر چونک اس کی تواضع اچھی طرح سے کی تھی اس لیے اس کا وہ تمام جوش و خروش دب گیا اور وہ بڑی مہربانی اور پیار سے مجھ کو ملا۔ چنانچہ بڑے اصرار کیساتھ مجھ کو ساتھ لے گیا اور ایک چھوٹی سی مسجد میں جس کا وہ امام مقرر ہوا تھا مجھ کو بٹھلایا اور خود نوکروں کی طرح پنکھا کرنے لگا اور بہت خوشامد کرنے لگا کہ کچھ چائے وغیرہ پی کر جاویں۔ پس دیکھو کہ احسان کس قدر دلوں کو مسخر کر لیتاہے ۔۱؎ اخلا ص کی ایک علامت :۔ ایک صاحب کی لڑکی بیمار تھی۔ انہوں نے اس کی دُعا کے لیے تار بھیجا تھا۔ آپ نے اس کو پڑھ کر فرمایا کہ :۔ دیکھو یہ لوگ ہم سے کتنا اخلاص رکھتے ہیں۔ جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جھٹ ہماری طرف آتے اور دُعا کے خواستگار ہوتے ہیں۔ میں دُعا کروں گا۔ آگے شفا خد ا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ چند دن ہوئے مجھ کو الہام ہوا تھا کہ لاہور سے ایک افسوسناک خبر آئی۔ ‘‘ چنانچہ یہ چھپ بھی چکا ہے اور اس