کیا ہے اور دفاتر اُن سے بھردئیے ہیں اور پھر اس سلوک کو دیکھا جائے جو کہ اب انہوں نے گورنمنٹ کے ساتھ کیا ہے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ گورنمنٹ کے صرف بد خواہ ہی نہیں بلکہ نمک حرام بھی ہیں اور معلوم ہوتاہے کہ آریوں کی فطرت میں یہ بدی ہے کہ اپنے محسن کے ساتھ ایسی بد سلوکی کریں۔
ناجائزوعدہ کو توڑنا ضروری ہے :۔
ایک شخص کی درخواست پیش ہوئی کہ میری ہمشیرہ کی منگنی مدت سے ایک غیر احمدی کے ساتھ ہو چکی ہے اب اس کو قائم رکھنا چاہیئے یا نہیں؟
فرمایا:۔
ناجائزہ وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے ۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قسم کو توڑ دیا جاوے ۔ علاوہ ازیں منگنی تو ہوتی ہی اسی لیے ہے کہ اس عرصہ میں تمام حسن و قبح معلوم ہو جاویں۔ منگنی نکاح نہیں ہے کہ اس کو توڑنا گناہ ہو۔
مجالس مشاعرہ :۔
ایک جگہ بعض شاعر انہ مذاق کے دوست ایک باقاعدہ انجمن ِ مشاعرہ قائم کرنا چاہتے تھے اس کے متعلق حضرت سے دریافت کیا گیا۔
فرمایا:۔
یہ تضیع اوقات ہے کہ ایسی انجمنیں قائم کی جاویں اور لوگ شعر بنانے میں مستغرق رہیں۔ ہاں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ذوق کے وقت کوئی نظم لکھے اور اتفاقی طور پر کسی مجلس میں سُنائے یا کسی اخبار میں چھپوائے ۔ ہم نے اپنی کتابوں میں کئی نظمیں لکھی ہیں مگر اتنی عمر ہوئی آج تک کبھی کسی مشاعرہ میں شامل نہیں ہوئے ۔ میں ہر گز پسند نہیں کرتا کہ کوئی شاعری میں اپنا نام پیدا کرنا چاہئے۔ ہاں اگر حال کے طورنہ صرف قال کے طور پر او رجوشِ روحانی سے اور نہ خواہش نفسانی سے کبھی کوئی نظم جو مخلوق کے لیے مفید ہو سکتی ہو لکھی جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ مگر یہی پیشہ کر لینا ایک منحوس کام ہے۔ ۱؎