ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں۔ ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میںگئی ۔ نہ یہ حاصل ہوا نہ وہ ۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو۔ اور احتیاطی کی کوئی ضرورت نہیں۳؎ ۸؍جون ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت عصر) استخارہ کی اہمیت :۔ فرمایا کہ :۔ آج کل اکثر مسلمانوں نے استخارہ کی سُنت کو ترک کر دیا ہے ۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش آمدہ امر میں استخارہ فرما لیا کرتے تھے۔ سلف صالحین کا بھی یہی طریقہ تھا۔ چونکہ دہریت کی ہوا پھیلی ہوئی ہے اس لیے لوگ اپنے علم و فضل پر نازاں ہو کر کوئی کام شروع کر لیتے ہیں اور پھر نہاں درنہاں اسباب سے جن کا انہیں علم نہیں ہوتا نقصان اُٹھاتے ہیں۔ اصل میں یہ استخارہ ان بدر سومات کے عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کی ابتداء سے پہلے کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان اُسے بھول گئے حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے ۔ جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ بعض لوگ کوئی کام خود ہی اپنی رائے سے شروع کر بیٹھتے ہیں اور پھر درمیان میں آکر ہم سے صلاح پوچھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں جس علم و عقل سے پہلے شروع کیا تھا اسی سے نبھا ئیں۔ اخیر میں مشورے کی کیا ضرورت ہے؟۱؎ ۱۱؍ جون ۱۹۰۷ئ؁ آریوں کی فطرت:۔ فرمایا:۔ ہمارا ایک پُرانا واقف ہندو ہے اس کا خط آیا تھا کہ آریہ لوگ دراصل گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں۔ سرکار کو غلط فہمی ہوئی ۔ میں نے اسے خط لکھاہے یہ تمہاری غلطی ہے کہ آریہ سرکار کے خیر خواہ ہیں۔ اس سلوک کو دیکھا جائے جو گورنمنٹ نے ان کے ساتھ کیا ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دی ہے اور تمام معزز عہدوں پر ان کو ممتاز