بلا تاریخ
ایک دعا اور اس کا جواز :۔
میاں محمد دین احمدی کباب قروش لاہور (حال ساکن موضع دھورہ ڈھیری بٹاں ریاست جموں) نے ایک عریضہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا جس میں لکھا تھا ’’یا حضرت میں نے چند روز سے محض رضائے الہٰی کے لیے جناب باری تعالیٰ میں یہ دعا شروع کی ہے کہ میری عمر میں سے دس سال حضرت اقدس مسیح موعود کو دی جاوے کیونکہ اسلام کی اشاعت کے واسطے میری زندگی ایسی مفید نہیں۔ کیاایسی دعا مانگنا جائز ہے؟‘‘
حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا:۔
’’ایسی دعا میں مضائقہ نہیں بلکہ ثواب کا موجب ہے ‘‘
ہندوئوں سے ہمدردی :۔
ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بہ سبب پرانے تعلقات کے ایک ہندو ہمارے شہر کا ہمارے معاملات شادی اور غمی میں شامل ہوتا ہے اور کوئی مرجائے تو جنازہ میں بھی ساتھ جاتا ہے۔ کیا ہمارے واسطے بھی جائز ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایسی شمولیت دکھائیں؟
فرمایا کہ:۔
ہندوئوں کی رسوم اور امورمخالف شریعت اسلام سے علیحدگی اور بیزاری رکھنے کے بعد دینوی امور میں ہمدردی رکھنا اور ان کی امداد کرنا جائز ہے۔
نماز جمعہ کے بعد احتیاطی:۔
ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے۔
فرمایاکہ:۔
قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نماز سب مسلمانوں پر فرض ہے ۔ جب کہ جمعہ کی نماز پڑھ لی تو حکم ہے کہ جائو اب اپنے کاروبار کرو۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت میں جمعہ کی نماز اور خطبہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ بادشاہ مسلمان نہیں ہے تعجب ہے کہ خود بڑے امن کے ساتھ خطبہ اور نماز پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہوسکتا پھرکہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں اس واسطے ظہر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھا ہے۔