۲۱؍مئی ۱۹۰۷ئ :۔
انسان ہر دم خدا تعالیٰ کا محتاج ہے:۔
ہم نے جو کیمیا کوشرک قرار دیا تھا تو اس کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان مستغنی ہو اسی لیے فرمایا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی ۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی (العلق :۷‘۸)وہ فرماتا ہے۔ انسان سرکشی کرتا ہے جب کہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے۔ عبودیت کا الوہیت سے ایسا تعلق ہے کہ عبد اپنے مولا کا ذرہ ذرہ کے لیے محتاج ہے اور ایک دم خدا تعالیٰ کے سوا نہیں گذار سکتا۔ پس جو شخص ایسے اسباب تلاش کرتا ہے جن سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ رہے(اور توجہ مبنی ہے احتیاج پر ) تو گویا شرک میں پڑتا ہے۔ کیوں کہ اپنا قبلہ مقصود ایک کے سوا دوسرا بھی بناتا ہے۔ مومن تو وہ ہے جو ایسے امور کا نام تک نہ لے جن سے توحید میں رخنہ اندازی ہوتی ہو۔ اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ بیمار اسی وقت تک طبیب کے پاس رہتا ہے جب تک کہ بیمار ہے۔ پس عبد بھی اسی وقت تک متوجہ رہے گا۔ جب تک عبودیت کی حالت باقی رہے۔
اَلْعَاقِبَۃُ لِلّمُتَّقِیْنَ:۔
دو فریق ہوتے ہیں جن میں مقابلہ ہوتا ہے مگر آخر کار وہی فتح پاتے ہیں جن کے ساتھ خدا ہوتاہے ۔ موسیٰؑ بظاہر فرعون کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتے تھے مگر خداتعالیٰ نے اپنی عجیب در عجیب قدرتوں سے فتح بخشی۔
آخری فیصلہ کا وقت:۔
بڑے تعجب کی بات ہے کہ مخالف اپنے دوسرے ہلاک شدہ بھائیوں سے ذرا بھی عبرت حاصل نہیں کرتے بلکہ ایک بولتا ہے تو دوسرا اس کی تائید کرتا ہے۔ یہ آریہ ہوں یا مسلم یا ہندو یا سکھ۔ ہماری مخالفت میں سب ایک ہو جاتے ہیں (ایک حدیث میں مسیح موعود کا یہ نشان بھی ہے کہ کینہ وبغض باہمی چلا جائے گا اور حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے۱؎)
حالانکہ یہ صرف اس بات پر تقویٰ و خداترسی کے ساتھ غور کریں کہ چھبیس برس کا زمانہ کوئی تھوڑا زمانہ نہیں بلکہ اس میں تو ایک بچہ بھی پیدا ہوکر بالغ ہوسکتا ہے۔ اب وہ زمانہ آتا ہے کہ آخری فیصلہ کردیا جاوے اور وہ فرقان حاصل ہو جو انبیاء اور ان کے مخالفین میں ہوا کرتا ہے۔ پہلے خدا تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ دو فریق آپس میں کشتی کریں پھر آخر وہ وقت آتا ہے کہ ایک فریق کی حمایت کرکے ان کو کامیاب کرے اور دوسرے کو فنایا مغلوب کرے۲؎