شدید تھا کہ انہوں نے سمجھا کہ مجھ کو طاعون ہوگیا ہے اور اس خیال کا ان پر اس قدر اثر پڑا کہ مفتی محمد صادق صاحب کو بُلا کر وصیت بھی لکھوانی شروع کردی۔ اتفاقاً یہ خبر مجھ کو ملی اور میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو ان کے اس خیال کو دور کرنے کے لیے میں نے کہدیا کہ آپ کو قطعاً طاعون نہیں ۔ اگر آپ کو طاعون ہے تو ہمارا سلسلہ ہی جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے صاف کہدیا ہے کہ میں ہر ایک شخص کو جو اس چار دیواری میں ہے اس مرض سے بچائوں گا اور یہ کہ کر میں نے ان کی نبض جو دیکھی تو تپ کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ( منقول از تشحیذالاذہان)
مسلمانوں کی یہود سے نسبت:۔
جہاد کی ممانعت کی نسبت جو نظم درثمین میں شائع ہو چکی ہے اس میں ایک شعر ہے ۔
؎ اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے مومن نہیں ہو تم کہ قدم کا فرانہ ہے
اس کی نسبت فرمایا کہ :۔
دیکھو آج کل ہر طرح کا فسق و فجور پھیلا ہوا ہے اور مسلمانوں کی پہلی سی حالت نہیں رہی۔ ان کے ہاتھوں سے سلطنت بھی اسی لیے چھینی گئی ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیا۔ خدا تعالیٰ تو کسی کا رشتہ دار نہیں کہ وہ باوجود اس کے بگڑ جانے کے پھر بھی اس کی پاسداری کرتا چلا جاوے ۔ چونکہ یہودیوں سے مسلمانوں کو نسبت ہے اس لیے ان کی طرح ان پر بھی دو دفعہ سخت عذاب آنا ضروری تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ تو تب ان پر عذاب آیا جبکہ ہلاکو خاں نے حملہ کرکے بغداد کو تباہ کیا اور مسلمانوں کو اس قدر ہلاک کیا کہ صرف بغداد میں کہتے ہیں کہ چھ لاکھ انسان قتل ہوا۔ اس وقت کے مسلمانوں کی حالت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ ایک بزرگ کے پاس لوگ اکٹھے ہوئے اور کہا کہ خدا تعالیٰ سے دعا کیجئے گا کہ وہ ہم کو اس عذاب سے نجات دے اور یہ طوفان تھم جائے ۔ انہوں نے فرمایا کہ کم بختو! تمہاری وجہ سے ہم بھی اس عذاب میں پھنس گئے میں دیکھتا ہوں کہ فرشتے کھڑے کہتے ہیں یَآاَیُّھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُوْا االْفُجَّارَ۔ یعنی اے کافرو! ان فاجروں کو قتل کرو۔ پس وہی حالت اس وقت دوبارہ ہوگئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے کے لائق نہیں ہیں اور میرے اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ خود تمہاری حالت ایسی نہیں رہی کہ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو جہاد کیسا۱؎؟