اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوئوں کی رسم کے مطابق طواف کے واسطے پیچ در پیچ ارد گر ددیوار بنی ہوئی تھی اور وہ اندر بیٹھا ہوا تھا ۔ بجلی ان تمام چکروں میں سے ہوکر اندر جاکر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہوگیا۔ دیکھو وہی بجلی کی آگ تھی جس نے اس کو جلا دیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہیں دے سکی ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔
(۲) ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات کو میں ایک مکان کی دوسری منزل میں سویا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ سولہ اورآدمی بھی تھے۔ رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی۔ میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتاہے یہاں سے نکل جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کوئی چوہا ہوگا کچھ خوف کی بات نہیں۔ اور یہ کہہ کر پھر سو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی ہی آواز سُنی ۔ تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروانہ کی۔ پھر تیسری بار شتہیرسے آواز آئی۔ تب میں نے اُن کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سب باہر نکلا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا ۔ ابھی میں دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور دوسری چھت کو بھی ساتھ لے کر نیچے جا پڑی۔ اور چارپائیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اور ہم سب بچ گئے۔ یہ خد اتعالیٰ کی معجزہ نما حفاظت ہے جب تک کہ ہم وہاں سے نکل نہ آئے شہتیر گرنے سے محفوظ رہا۔
(۳)ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہوا پایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا۔ مگر ہر دو بارہ خداتعالیٰ نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا۔
(۴) ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی۔ مجھے خبر بھی نہ ہوئی ۔ ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلایا اور اس آگ کو بجھا دیا۔ خدا تعالیٰ کے پاس کسی کے بچانے کی ایک راہ نہیں بلکہ بہت راہیں ہیں۔ آگ گرمی اور سوزش کے واسطے بھی کئی ایک اسباب ہیں اور بعض اسباب مخفی در مخفی ہیں ۔ جن کی لوگوں کوخبر نہیں اور خدا تعالیٰ نے وہ اسباب اب تک دُنیا پر ظاہر نہیں کئے جن سے اس کی سوزش کی تاثیر جاتی رہے۔ پس اس میں کون سی تعجب کی بات ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ پر آگ ٹھنڈی ہوگئی۔۱؎
بلاتاریخ:
اگر آپ کو طاعون ہے تو ہمارا سلسلہ ہی جھوٹا ہے:۔
ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب کو طاعون کے ایام میں سخت تپ چڑھا جو یہاں تک