۲۱؍مئی ۱۹۰۶ئ؁ میڈیکل سکول کے خارج شدہ طلباء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نصیحت میڈیکل سکول کے جن طلباء نے اپنے اُستادوں سے ناراض ہو کر اتفاق کرکے مدرسہ جانا بند کر دیا ہے ۔ ان میں سے دو طالب علم ( عبدالحکیم صاحب اور ایک اور ) قادیان میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ۲۱؍مئی کو حاضر ہوئے ۔ اور اپنا واقعہ گذشتہ اور پرنسپل کا ۳۱؍مئی تک داخل ہوجانے کی اجازت دے دینے کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ : آج کل اس قسم کی کارروائیاں گورنمنٹ کے ساتھ بغاوت کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور ان سے بچنا چاہیئے ۔ میرے نزدیک اب اس معاملہ کو ترقی نہیں دینا چاہیئے اور پرنسپل صاحب کی اجازت سے فائدہ حاصل کرکے داخل ہو جانا چاہیئے ۔ جن اُستادوں کے ساتھ تم نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ان کو اندر ہی اندر ضرور تنبیہہ کی گئی ہوگی۔ اور امید نہیں کہ وہ آئندہ تمہارے ساتھ بُرا سلوک کریں۔ گورنمنٹ ایسے لوگوں کو بغیر باز پرس نہیں چھوڑتی گو عام اظہار ایسی بات کا نہ کیا جاوے۔ علاوہ اس کے تمہیں چاہیئے کہ اگر انہوں نے بداخلاقی کی ہے تو تم ان سے اخلاق سیکھو اور اگر تمہیں کبھی ایسی افسری کا موقعہ ملے تو تم اخلاق کا برتائو اپنے شاگردوں اور ماتحتوں کے ساتھ کرو۔ اور جو قسمیں تم نے ضد پر کھائی ہیں وہ ناجائز ہیں۔ ناجائز قسم پر قائم رہنا گناہ ہے ۔ خد ا تعالیٰ نے اسلامی شریعت میں یہی حکم دیا ہے کہ ناجائز قسموں اور ناجائز اقراروں کو توڑ دیا جاوے۔ وقت کو ضائع کرنا اچھا نہیں اپنے آپ کو پریشانی میں مت ڈالو اور اپنے مدرسہ میں داخل ہو جائو۔۱؎ ۲۷؍مئی ۱۹۰۶ئ؁ ایک الہام اور ایک رویاء کا پورا ہونا : چوہدری اللہ داد صاحب مرحوم کا ذکر تھا۔ فرمایا: بڑے مخلص آدمی تھے ۔ ایسا آدمی پیدا ہونا مشکل ہے ۔