رہے ۔صحابہؓ کی پہلی حالت پر غور کرو۔ جب کافر مومن بن سکتاہے تو کیا ایک فاجر صالح نہیں بن سکتا؟ انسان پر کئی حالتیں آتی ہیں اور کئی تغیرات واقع ہوتے ہیں۔۳؎
۱۰؍مئی ۱۹۰۶ئ
مباہلہ اعلیٰ درجہ کا ہتھیار ہے:۔
احمد مسیح عیسائی کے حضرت کو مباہلہ کے واسطے بُلانے کا ذکر تھا۔ ( جس کا جواب منظوری گذشتہ اخبار میں شائع ہو چکا ہے ) فرمایا:
مباہلہ ایک آخری فیصلہ ہوتاہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نصاریٰ کو مباہلہ کے واسطے طلب کیا تھا مگر ان میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی۔ اب بھی عیسائیوں کے دلوں پر حق کا رعب طاری ہے اور امید نہیں کہ کوئی بشپ مباہلہ کے میدان میں آوے ۔ لیکن اگر کوئی آئے گا تو ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بڑی کامیابی دے گا۔ مباہلہ دشمن پر زد کرنے کا ایک اعلیٰ درجہ کا ہتھیار ہے ۔
مہدی کے بارہ میں مسلمانوں میں اختلافات ۔
فرمایا:
اس زمانہ میں مُسلمانوں کے ساتھ بھی بحث مباحثہ فضول ہے کیونکہ جن حدیثوں اور روایتوں اور عقائد کی بناء پر وہ ہم سے مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کے بارے میں خود ان کے اپنے درمیان بڑے بڑے اختلاف موجود ہیں۔ کوئی کہتاہے کہ مہدی فاطمی ہوگا۔ کوئی کہتاہے کہ عباسی ہوگا۔ کوئی کہتاہے کہ حسینی ہوگا۔ کوئی کہتاہے کہ پیدا ہوگا۔ کوئی کہتاہے کہ غار میں سے نکلے گا۔ کوئی کہتاہے کہ اُمت میں سے ایک فرد ہوگا۔ کوئی کہتاہے کہ وہی عیسیٰ ہی مہدی ہوگا۔ غرض اس قدر اختلافات کے ساتھ تعجب ہے کہ پھر یہ ہمارا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ آنے والا حکَم ہے۔ وہ تمام بحثوں کا خاتمہ کرتاہے اور اختلافی امور کے درمیان میں سے ایک سچی راہ پیش کرتاہے اور وہی ماننے کے قابل ہے۔۱؎