مثیل۔ تو حضرت عیسیٰ کے ماننے میں اس قدر دقتیں اس زمانہ کے علماء کو پیش نہ آتیں۔ ایسا ہی اگر آنحضرت ﷺ کے متعلق جو پیشگوئیاں تورات اور انجیل میں ہیں وہ نہایت ظاہر الفاظ میں ہوتیں کہ آنے والا نبی آخر الزمان اسمٰعیل ؑ کی اولاد میں سے ہوگا اور شہر مکہ میں ہوگا ت پھر یہودیوں کو آپ کے ماننے سے کوئی انکار نہ ہوسکتا تھا‘ لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ ان میں متقی کون ہے جو صداقت کو اس کے نشانات سے دیکھ کر پہنچانتا اور اس پر ایمان لاتا ہے۔ کسی احمدی کا طاعون سے مرنا: فرمایا:۔ مخالفین کا یہ اعتراض کہ بعض ہماری جماعت کے آدمی طاعون سے کیوں مرتے ہیں بالکل ناجائز ہے ۔ ہم نے کبھی کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کی کہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرنے والا کوئی شخص کبھی طاعون میں گرفتار نہ ہوگا۔ ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ اول طبقہ کے لوگ اس قسم کی بیماری میں گرفتار ہو کر نہیں مرتے ۔ کوئی نبی ، صدیق ، ولی کبھی طاعون سے ہلاک نہیں ہوا۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی۔ مگر کیا حضرت عمرؓ پر بھی اس کا اثر ہوا تھا؟ عظیم الشان صحابہؓ میں سے کوئی طاعون میں گرفتار نہیں ہوا۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گذرے ہیں ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی طاعون سے مرا ہے ؟ ہاں اس میں شک نہیں کہ ایسی بیماری کے وقت بعض ادنیٰ طبقہ کے مومنین طاعون میں گرفتار ہوتے ہیں مگر وہ شہید ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کی کمزوریوں اور گناہوں کو اس طرح سے غفر کرتا ہے جیسا کہ ان جہادوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ساتھ کئے۔ اگرچہ پہلے سے پیشگوئی تھی کہ ان جہادوں میں کفار جہنم میں گرائے جائیں گے ۔ تا ہم بعض مسلمان بھی قتل کئے گئے مگر اعلیٰ طبقہ کے صحابہ مثلاً حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ جیسوں میں سے کوئی شہیدنہیں ہوا۔ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے جنگ میں شہادت میں اعلیٰ درجہ کے لوگ شامل نہیں ہوتے اسی طرح طاعون میں بھی اگر ہماری جماعت کا کوئی آدمی گرفتار ہو جائے تو یہ اس کے واسطے شہادت ہے اور خدا تعالیٰ اس کا اس کو اجر دے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ ہونا قرآن سے ثابت ہے:۔ ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ کیا یہ ضروری ہے کہ مسیح کو بن باپ مانا جائے ؟ فرمایا:۔ قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے اور قرآن شریف پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ پھر قانون قدرت میں ہم اس کے برخلاف کوئی دلیل نہیں پاتے ۔ کیونکہ سینکڑوں کیڑے مکوڑے پید اہوتے رہتے ہیں جو نہ باپ رکھتے ہیں اور