اور معجزات ظاہر ہوچکے ہیں۔ کیا ایسے وقت میں استخاروں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟کھلے نشانات کو دیکھ کر پھر استخارہ کرنا خدا تعالیٰ کے حضور میں گستاخی ہے ۔ کیا اب جائز ہے کہ کوئی شخص استخارہ کرے کہ اسلام کا مذہب سچا ہے یا جھوٹا اور استخارہ کرے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے سچے نبی تھے یا نہیں تھے۔ اس قدر نشانات کے بعد استخاروں کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں۱؎۔ ۵؍ مئی ۱۹۰۷ئ؁ اظہار غیب :۔ فرمایا:۔ آج قرآن شریف کی آیت شریفہ فَلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (الجن :۲۷‘۲۸) سے مجھے ایک نکتہ خیال میں آیا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس کے غیب کا اظہار سوائے برگزیدہ رسولوں کے اور کسی پر نہیں ہوتا۔ اس میں سوچنے کے لائق لفظ اظھار ہے اظھار سے مراد یہ ہے کہ کھلا کھلا غیب کثرت کے ساتھ کسی پر کھولا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف متشابہات کے طور پر تھوڑا سا غیب تو گاہے گاہے کسی دوسرے پر بھی کھولا جاتا ہے۔ مگر اس میں محکم بات نہیں ہوتی اور اس کے واسطے شرط نہیں کہ جس پر کھولا جائے وہ مومن ہو یا کافرہو۔ ہرایک مذہب کے آدمی کو یہ حالت گا ہے حاصل ہوسکتی ہے کہ کوئی تھوڑی سی بات مشتبہ یا غیر مشتبہ اس کو غیب سے مل جائے ۔ یہ سب کچھ ہوسکتا ہے ‘لیکن منع صرف اظہار علی الغیب ہے۔ اظھار کا لفظ اس کی کیفیت اور کمیت پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ غیب کی خبر مصفّٰی ہو ۔ شک اور شبہ سے پاک ہو اور دوسرا کثرت سے ہو جس سے ظاہر ہو کہ یہ خارق عادت اور معجزہ نما ہے ۔ اس آیت سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ رسولوں کے سوائے دوسروں کو بھی غیب کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے مگر ان کے غیب میں اظہار کا رنگ نہیں ہوتا۔ اظھار کا لفظ ایک خاص امتیاز کو ظاہر کرتا ہے۔ پیشگوئیوں میں اخفاء ضروری ہے:۔ فرمایا:۔ پیشگوئی میں کسی قدر اخفاء اور متشابہات کا ہونابھی ضروری ہے اور یہی ہمیشہ سے سنت الہٰی ہے۔ ملا کی نبی اگر پیشگوئی میں صاف لکھ دیتا کہ الیاس خود نہ آئے گا بلکہ اس کا