نہ ماں ۔قرآن شریف میں جہاں اس کا ذکر ہے وہاں خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دو عجائب نمونوں کا ذکر کیاہے ۔ اول حضرت زکریاؑ کا ذکر ہے کہ ایسی پیرانہ سالی میں جہاں کہ بیوی بھی بانجھ تھی خدا تعالیٰ نے بیٹا پیدا کیا۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ دوسرا واقعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی قدرت عجیبہ کا نمونہ ہے ۔ اس کے ماننے میں کون سا ہرج پید اہوتاہے ۔ قرآن مجید کے پڑھنے سے ایسا ہی ثابت ہوتاہے کہ مسیح بن باپ ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ نے کَمَثَلِ اٰدَمَ جو فرمایا اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس میں ایک عجوبہ قدرت ہے جس کے واسطے آدم کی مثال کا ذکر کرنا پڑا۔ شہید کا جنازہ فرشتے پڑھتے ہیں:۔ ذکر تھ اکہ بعض جگہ چھوٹے گائوں میں ایک ہی احمدی گھر ہے اور مخالف ایسے متعصب ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی احمدی مرجائے گا تو ہم جنازہ بھی نہ پڑھیں گے ۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ ایسے مخالفوں کا جنازہ پڑھا کر احمدی نے کیا لینا ہے ۔ جنازہ تو دُعا ہے ۔ جو شخص خود ہی خدا تعالیٰ کے نزدیک مَغْضُوْبِ عَلَیْھمْ میں ہے۔ اس کی دُعا کا کیا اثر ہے؟ احمدی شہید کا جنازہ خود فرشتے پڑھیں گے ۔ ایسے لوگوں کی ہرگز پروانہ کرو اور اپنے خدا پر بھروسہ رکھو۔ طاعون اور ہماری جماعت :۔ فرمایا:۔ یہ نادان لوگوں کا غلط خیال ہے کہ طاعون ہماری جماعت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر طاعون سے کوئی آدمی ہماری جماعت کا شہید ہوتاہے تو یہاں تو خدا تعالیٰ ایک کی بجائے سو بھیج دیتاہے ۔ لیکن ہمارے مخالفوں کا یہ حال ہے کہ ایک تو طاعون سے ہزاروں مر رہے ہیں۔ وہ بھی اُن میں سے کم ہو گئے اور جو زندہ ہیں اُن میں سے ہزاروں نکل کر ہماری جماعت میں داخل ہور ہے ہیں۔ ہماری جماعت تو دن بدن بڑھ رہی ہے اور مخالفوں کی جماعت دن بدن گھٹ رہی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ گھاٹے میں کون ہیں اور فائدے میں کون ہیں۔ آریہ سماج کا انجام:۔ فرمایا:۔ افسوس ہے کہ آریہ سماج نے ایسی بُری راہ اختیار کی ہے جس کا انجام کسی صورت میں نیک نہیں ہو سکتا اور اب ان کے لیڈر کو ہی جلا وطن نہیں سمجھنا چاہیئے بلکہ دراصل آریہ سماج ہی جلا وطن ہوگیا ہے اور اب اس کا خاتمہ ہے ۔