مخفی گناہوں سے بچنے کی تلقین :۔ فرمایا:۔
جب کوئی مصائب میں گرفتار ہوتاہے تو قصور آخر بندے کا ہی ہوتاہے خدا تعالیٰ کا تو قصور نہیں ۔ بعض لوگ بظاہر بہت نیک معلوم ہوتے ہیں اور انسان تعجب کرتا ہے کہ اس پر کوئی تکلیف کیوں وارد ہوئی یا کسی نیکی کے حصول سے یہ کیوں محروم رہا لیکن دراصل اس کے مخفی گناہ ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی حالت یہاں تک پہنچائی ہوئی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ بہت معا ف کرتا ہے اور درگذر فرماتا ہے۔اس واسطے انسان کے مخفی گناہوں کا کسی کو پتہ نہیں لگتا۔ مگر مخفی گناہ دراصل ظاہر کے گناہوں سے بدتر ہوتے ہیں۔ گناہوں کا حال بھی بیماریوں کی طرح ہے بعض موٹی بیماریاں ہیں ہر ایک شخص دیکھ لیتا ہے کہ فلاں بیمار ہے مگر بعض ایسی مخفی بیماریاں ہیں کہ بسا اوقات مریض کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مجھے کوئی خطرہ دامنگیر ہو رہا ہے۔ ایسا ہی تپ دق ہے کہ ابتداء میں اس کا پتہ بعض دفعہ طبیب کو بھی نہیں لگ سکتا یہاں تک کہ بیماری خوفناک صورت اختیار کرتی ہے ایسا ہی انسان کے اندرونی گناہ ہیں جو رفتہ رفتہ اسے ہلاکت تک پہنچا دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے رحم کرے۔ قرآن شریف میں آیا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (الشمس:۱۰)اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا ۔ لیکن تزکیہ نفس بھی ایک موت ہے ۔ جب تک کہ کل اخلاق رذیلہ کو ترک نہ کیا جاوے تزکیہ نفس کہاں حاصل ہوسکتا ہے۔ ہر ایک شخص میں کسی نہ کسی شرّ کا مادہ ہوتا ہے وہ اس کا شیطان ہوتا ہے۔ جب تک کہ اس کو قتل نہ کرے کام نہیں بن سکتا۔
تکبر بڑا گناہ ہے:۔
فرمایا:۔
سب سے اول آدم نے بھی گناہ کیا تھا اور شیطان نے بھی ۔مگر آدم میں تکبر نہ تھا اس لیے خدا تعالیٰ کے حضور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور اس کا گناہ بخشا گیا۔ اسی سے انسان کے واسطے توبہ کے ساتھ گناہوں کے بخشا جانے کی امید ہے۔ لیکن شیطان نے تکبر کیا اور وہ ملعون ہوا جو چیز کہ انسان میں نہیں‘متکبر آدمی خواہ مخواہ اپنے لیے اس چیز کے دعوے کے واسطے تیار ہوجاتا ہے۔ انبیاء میں بہت سے ہنر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہنر سلب خودی کا ہوتا ہے۔ ان میں خودی نہیں رہتی ۔ وہ اپنے نفس پر ایک موت وارد کرلیتے ہیں کبریائی خدا کے واسطے ہے۔ جو لوگ تکبر نہیں کرتے اور انکساری سے کام لیتے ہیں وہ ضائع نہیں ہوتے۔
استخارہ کا بھی وقت ہوتا ہے:۔
ایک شخص کا خط آیا کہ میں آپ کے متعلق استخارہ کرنا چاہتا ہوں کہ آیا آپ حق پر ہیں یا نہیں ۔ فرمایا:۔
ایک وقت تھا کہ ہم نے خود اپنی کتاب میں استخارہ لکھا تھا کہ لوگ اس طرح سے کریں۔ تو خدا تعالیٰ ان پر حق کو کھول دے گا۔ مگراب استخارہ کی کیا ضرورت ہے جب کہ نشانات الہٰی بارش کی طرح برس رہے ہیں اور ہزاروں کرامات