فرمایا:۔ جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وہ تو بہرحال تمہاری اذان اور تمہاری نماز جمعہ کو اذان اور نماز سمجھتے ہی نہیں اس واسطے وہ تو پڑھ ہی لیں گے اور چونکہ وہ مومن کو کافر کہکر بموجب حدیث خود کافر ہو چکے ہیں۔ اس واسطے تمہارے نزدیک بھی ان کی اذان اور نماز کا عدم وجود برابر ہے ۔ تم اپنی اذان کہو اور اپنے امام کے ساتھ اپنا جمعہ پڑھو۔ حجِ بدل:۔ خوشاب سے ایک مرحوم احمدی کے ورثاء نے حضرت کی خدمت میں خط لکھا کہ مرحوم کاارادہ پختہ حج پر جانے کا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی ۔ کیا جائز ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی آدمی خرچ دے کر بھیج دیا جاوے۔ فرمایا:۔ جائز ہے ۔ اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہوجائے گا۔ ۱؎ ۲۸؍اپریل ۱۹۰۷ئ؁ خدا تعالیٰ کیساتھ کون لڑسکتاہے؟ حضرت اقدس کی طبیعت کسی قدر علیل ہے اس واسطے خدام کو جن میں زیادہ تر باہر سے آئے ہوئے دوست ہیں جیسا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب میاں چراغ الدین صاحب، صاحبزاد گان میاں صاحب موصوف، میاں معراج الدین صاحب، سردار فضل حق صاحب وغیرہ سب کو صبح کے وقت ملاقات کے واسطے ازروئے شفقت اندر ہی طلب کیا اورفرمایا:۔ وہ دن آتے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے روشن نشانوں کے ساتھ تمام پردے اُٹھاتا جاتاہے ۔ خدا تعالیٰ ایسا ہی ایک دوزبردست ہاتھ اور دکھادیگا تو پھر کہاں تک لوگ برداشت کر سکیں گے ۔ آخر ان کو ماننا پڑیگا کہ حق اسی میں ہے جو ہم کہتے ہیں ۔ ہمارے مخالف جو ہمارے ساتھ لڑائی کرتے ہیں دراصل ہمارے ساتھ لڑائی نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کیساتھ لڑائی کرتے ہیں اور کون ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ لڑائی میں کامیاب ہو۔ ؟