کریمؐ یا صحابہ کرام ؓ و ائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا؟ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی؟ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں ۔ ناجائز ہے جو جنازہ میں شامل نہ ہو سکیں وہ اپنے طور سے دُعا کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۱؎ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ئ؁ ایک فقہی مسئلہ :۔ نماز مغرب میں آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے پیش امام صاحب کی آواز آخری صفوں تک نہ پہنچ سکنے کے سبب درمیانی صفوں میں سے ایک شخص حسب معمول تکبیر کی بآواز بلند تکرار کرتا جاتاتھا۔ آخری رکعت میں جب سب التحیات بیٹھے تھے اور دُعائے التحیات اور درود شریف پڑھ چکے تھے اور قریب تھا کہ پیش امام صاحب سلام کہیں مگر ہنوز انہوںنے سلام نہ کہا تھا کہ درمیانی تکبر کو غلطی لگی اور اس نے سلام کہدیا جس پر آخری صفوں کے نمازیوں نے بھی سلام کہدیا اور بعض نے سُنتیں بھی شروع کر دیں کہ امام صاحب نے سلام کہا اور درمیانی مکبر نے جو اپنی غلطی پر آگاہ ہو چکا تھا دوبارہ سلام کہا۔ اس پر ان نمازیوں نے جو پہلے سے سلام کہہ چکے تھے اور نماز سے فارغ ہو چکے تھے مسئلہ دریافت کیا کہ آیا ہماری نماز ہوگئی یا ہم دوبارہ نماز پڑھیں؟ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب نے جو خود بھی پچھلی صفوں میں تھے اور امام سے پہلے سلام کہہ چکے تھے فرمایا کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا جا چکا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ :۔ آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ہو جائے تو مقتدیوں کی نماز ہو جاتی ہے۔ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک مسجد میں دو جمعے:۔ سوال پیش ہوا کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرالینے کا اختیار قانوناً یا باہمی مصالحت سے حاصل ہوتاہے تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جاوے؟ کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہوسکتے ۔