سے بھی گئے گذرے ہیں۔ عیسائیوں میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیں کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر گئے۔ وہ سب قائل ہیں کہ جلالی جسم تھا۔ مگر یہ مسلمان ہو کر کہتے ہیں کہ انہیں اسی خاکی جسم کے ساتھ گئے اور اسی کے ساتھ اتریں گے ۔ حالانکہ عیسائی ان کے نزول کو بھی ایسا نہیں مانتے ۔
مقام لولاک کی حقیقت :۔
لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ میں کیا مشکل ہے؟ قرآن مجید میں ہے خَلَقَ لَکُم ْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (البقرۃ : ۳۰) زمین میں جو کچھ ہے وہ عام آدمیوں کی خاطر ہے تو کیا خاص انسانوں میں سے ایسے نہیں ہو سکتے کہ ان کے لیے افلاک بھی ہوں؟ دراصل آدم کو جو خلیفہ بنایا گیا تو اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ وہ اس مخلوقات سے اپنے منشاء کا خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے موافق کام لے اور جن پر اس کا تصرف نہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں سورج ، چاند ، ستارے وغیرہ ۔
ہندوئوں کی حکومت کیا انصاف کریگی ؟
آریہ اور بنگالیوں کی شورش کا ذکر تھا فرمایا:۔
ان کے خیالات و حرکات سے ہمیں قطعی نفرت ہے ۔ ہماری جماعت کو بالکل ان سے الگ رہنا چاہیئے ۔ تعجب کی بات ہے کہ جو قوم حیوان کو انسان پر ترجیح دیتی ہو اور ایک گائے کے ذبح سے انسان کا خون کر دینا کچھ بات نہ سمجھتی ہو ۔ وہ حاکم ہوکر کیا انصاف کریگی ۔
مردان خدا۔ خدانہ باشند لیکن از خدا۔ جدا نہ باشند
خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہ کلام دکھلاتاہے کہ دُنیا حیران رہ جاتی ہے۔۲؎
بلاتاریخ
فاتحہ خوانی:۔
سوال پیش ہو ا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ فاتحہ خوانی ایک دُعائے مغفرت ہے پس اس میں کیا مضائقہ ہے؟
فرمایا کہ :۔
ہم تو دیکھتے ہیں وہاں سوائے غیبت اور بے ہودہ بکواس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی