کے وہ معنے نہیں جو عام ملاں لوگوں نے سمجھ رکھے ہیں کہ استنجا وغیرہ کے چند مسائل آگئے وہ بھی تقلیدی رنگ میں فقیہ بن بیٹھے ۔ بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات ِ قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں۔ قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔ اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو اُسے کافی جواب دے سکیں۔ ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی بہت ضروری تھی۔ اس کا ضرور بندوبست ہونا چاہئے ۔ حقیقۃ الوحی اس مطلب کے لیے بہت مفید کتاب ہے۔ اصل میں مسلمانوں کے لیے تو یہی جواب کافی ہے کہ تم کوئی ایسا اعتراض اس سلسلہ پر کر کے دکھائو جو اور انبیاء علیہم السلام پر نہ ہو سکے وہ ہر گز کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکیں گے
وعیدی پیشگوئی ٹل سکتی ہے:۔
یہ آتھم یا احمد بیگ والی پیشگوئیوں پر تو اعتراض کرتے ہیں مگر دوسری پیشگوئیوں اور نشانیوں کا ذکر تک نہیں کرتے ۔ یہ کیسی بے انصافی ہے ۔ ہم انہیں بار ہا سمجھا چکے ہیں کہ وعید میں
تاخیر بھی ہو جاتی ہے ۔ دیکھو یونس نبی کی پیشگوئی ٹل گئی اور اس کی قوم پر عذاب نہ آیا ۔ یاد رکھو کہ یہ تمام اقوام کا مذہب ہے کہ صدقہ سے ردّ بلا ہو جاتاہے اور خدا تعالیٰ یہی فرماتا ہے مَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ( الانفال:۳۴)استغفار عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہے ۔ ہمارے تجربوں کی طرف کوئی جائے تو ایک منذر امر صبح کو ہوتو شام کو منسوخ ہو جاتا ہے۔
اجتہادی غلطی :۔
دوسرا اعتراض ہمارے بعض الہامات کی نسبت اپنی رائے پر ہے کہ وہ غلط نکلی ۔ بشرطِ تسلیم ہم کہتے ہیں کہ امر تنقیح طلب تو یہ ہے کہ نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کھا سکتا ہے یا نہیں ؟ سو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ نے پہلے پہلے اپنی بادشاہت دنیاوی سمجھ کر مریدوں کو ہتھیار خریدنے کا حکم دیا مگر آخر معلوم ہوگیا کہ یہ میری غلطی تھی او وہ اس ارادہ سے باز آئے۔ پھر ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا صلح حدیبیہ والا معاملہ کہ آپ کس ارادے سے آئے اور پھر کیا ہوا؟ چونکہ آپ کی ذات بابرکات تمام انبیاء کے کمالات کا جامع تھی اس لیے صرف ایک ہی واقعہ سے ثابت ہوگیا کہ نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتاہے ۔ پس اس صورت میں ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔۱؎
۲۲؍اپریل ۱۹۰۷ئ
مسیحؑ کا جسم عنصری کیساتھ آسمان پر جانے کا عقیدہ :۔ فرمایا:۔
تعجب کی بات ہے کہ مسلمان نصاریٰ