الٰہی بخش کی موت:۔ حکیم الامت کے نام امرت سر سے خط آیا تھا کہ الٰہی بخش کو موت سے پہلے الرَّحِیْلُ کا الہام ہوا۔ فرمایا:۔ طاعون کے معنی ہی موت ہیں۔ پس ایسی حالت میں تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اب میرا کُوچ ہے۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ بالفرض اگر یہ الہام پورا بھی ہوگیا تو اس سے پہلے جو الہاموں کا انبار تھا وہ کیا ہوا۔ وہ سب کیوں دریا بُرد ہوگئے؟ کہاں گئے اس کے وہ دعوے کہ یہ سلسلہ میرے سامنے تباہ ہوگا ۔ عجیب بات ہے کہ موسیٰ تو طوفان ِ طاعون میں غرق ہوگیا اور فرعون جیتا موجودہے۔ انذاری الہام تو پورا ہوا یا نہ ہوا مگر وہ مبشرات کیاہوئے۔ انذاری خبر تو بجائے خود ایک عذاب ہے۔ جس شخص کو بتا دیا جائے کہ تین دن بعد تم پھانسی ملوگے اس کے دل پر جو گذرتی ہے اور گذرنی چاہیئے ۔ وہ ہر ایک شخص جانتا ہے ۔ الہام تو وہ ہوتاہے جس سے کچھ تسکین و راحت ہو نہ کہ اُلٹا عذاب ۔ اپنے پر عذاب کی خبر پہلے ہو جاناتو معمولی بات ہے۔ جنگِ بدر سے پہلے ایک عورت مشرکہ کو خواب آیا تھا کہ ہمارے خیموں کے نیچے لہو بہہ رہا ہے ۔ آخر وہ بات پوری ہوگئی تو کیا اس سے وہ نبیہ سمجھ لی جاوے ؟ ممکن ہے اَلرَّحِیْلُ شیطان نے کہا ہو کہ لواب میں رخصت ہوتا ہوں جیسا کہ لکھاہے کہ جب عذاب دیکھے گا تو شیطان کہے گا میں تم سے جُدا ہوتا ہوں کیونکہ میں وہ کچھ دیکھتاہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ دشمنوں سے نرم گفتاری کی تلقین :۔ فرمایا:۔ دشمن اگر سخت کلامی کرے تو اس کے مقابل سختی کرنے سے فائدہ نہیں کیونکہ سخت الفاظ سے برکت دور ہو جاتی ہے۔ رحم کا مقتضاء :۔ فرمایا:۔ ثناء اللہ کے واسطے بھی ہم نے توبہ کی شرط لگا دی ہے کیونکہ رحم کا مقتضاء ہوتا ہے کہ توبہ سے انسان بچ جاوے۔۱؎