کی طرف سے کلام کا نزول ہے۔ جب یہ بات ہے تو پھر مابہ الامتیاز کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ اگر کسی کی ایک آدھ بات شاذو نادر پوری ہو جاوے تو اسے نبی نہیں کہہ سکتے ۔ کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ فاسق سے فاسق شخص کا خواب بھی بعض اوقات سچا ہو جاتاہے۔ فاسق تو درکنا ر ایک کافر کا خواب بھی بعض اوقات ٹھیک نکل آتا ہے ۔ یہ اصل میں اتمام حجت کے لیے ہے۔ گویا خداتعالیٰ سمجھاتا ہے کہ یہ مادہ انسان کی فطرت میں داخل ضرور ہے کیونکہ جس کا کوئی نمونہ ہی نہ ہو اسے تو لوگ مانتے ہی نہیں مگر یہ بات نہیں کہ جسے کوئی خواب آوے وہی ولی بن جاوے بلکہ جب پوری شوکت کے ساتھ کلام الٰہی نازل ہو اور ساتھ بارش کی طرح نشانوں کا نزول ہوتو پھر یقین کرنا چاہیئے کہ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے۔
اس کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنا الہام یَاتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ پیش کیا اور فرمایا کہ :۔
دیکھو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ اس قدر مخلوقِ الٰہی یہاں آئے گی کہ چلنا بھی دشوار اور سب سے مصافحہ کرنا بھی ناممکن ہو جائے۔
خداتعالیٰ کے نبی شہرت پسند نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے تئیں چھپانا چاہتے ہیں۔ مگر الٰہی حکم انہیں باہر نکالتا ہے ۔ دیکھو حضرت موسیٰؑ کو جب مامور کیا جانے لگا تو انہوں نے پہلے عرض کیا کہ ہارون مجھ سے زیادہ افصح ہے ۔ پھر کہا ولَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ(الشعراء :۱۵)مگر الٰہی منشاء یہی تھا کہ وہی نبی بنیں اور وہی اس لائق تھے اس لیے حکم ہوا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ تم جائو اور تبلیغ کرو۔
(بوقت ظہر)
ایک الہام کا پورا ہونا:۔
۱۳۔۱۴اپریل کی درمیانی رات کو گیارہ بجے کے قریب سخت زلزلہ آنے کے بہت سے خط آئے ہیں جو پڑھ کر بھی سنائے گئے فرمایا:۔
الہام پہلے ہو چکا تھا ۔ کیا یہ کسی انسان کا کام ہے کہ پردہ غیب کی باتیں قبل ازظہور متواتر بتاتا جاوے اور پھر اسی طرح پوری ہو جاویں۔ اب جو لوگ نہیں مانتے وہ یقینا بڑے مجرم ہیں۔ ایک نشان کے متعلق خطوط و خبروں کا سلسلہ ختم نہیں ہونے پاتا کہ دوسرا شروع ہو جاتاہے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہم افتراء کرتے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اُسے پورا کرتا جاتا ہے۔ کیا جب سے دُنیا ہے کسی اور مفتری سے بھی ایسا سلوک ہواہے ۔ کیا خدا تعالیٰ ہمارا محکوم ہے کہ ہم جو کچھ کہیں وہ پورا کردے۔ آخر کچھ تو سوچنا چایئے ۔ یہ لوگ جب ایک نشان دیکھ کر دیدہ دانستہ حق پوشی کرتے ہیں اور نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ ایک اور نشان کی پیشگوئی کرا دیتاہے تاکہ ان پر اتمام حجت ہو۔