ہوتا ہے۔ مرقومہ بالاالہام الٰہی یہ میری کتاب۱؎۔۔۔۔۔۔۔۔الخ کا ذکر تھا۔ فرمایا: اس سے معلوم ہوتاہے کہ جواحباب ہماری جماعت میں خدمت دین میں سرگرم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو درجہ و عظمت دینا چاہتاہے ۔۲؎ ۸؍مئی ۱۹۰۶ئ؁(بوقت عصر) پورے جوش سے خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائیں۔ فرمایا: جب تک کہ انسان بالکل خدا تعالیٰ کا نہ ہو جائے وہ کچھ نہ کچھ مسِّ عذاب اس دُنیا میں پاتا ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض افراد دُنیوی آرائش اور آرام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور اس میں مصروف ہیں۔ ان کو چاہیئے کہ اپنی عملی حالت کو دُرست کریں اور خدا تعالیٰ کی طرف پورے جوش اور طاقت کے ساتھ جھک جاویں۔ کمزوروں کے حق میں بُرا نہ بولنے کی تلقین ۔ فرمایا: جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی کمزور ہوتو اس کے حق میں بُرا بولنے میں جلد بازی نہ کرو۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ پہلے ان کی حالت خراب ہوتی ہے پھر یکدفعہ ایک تبدیلی کا وقت اُن پر آجاتا ہے جیسا کہ ان کی جسمانی حالت بہت سے مرحلے طے کرتی ہے۔ پہلے نُطفہ ہوتا ہے پھر خون کا لوتھڑا۔ اور ایک ذلیل سی حالت ہوتی ہے ۔ پھر رفتہ رفتہ ترقی کرتاہے ۔ ایسے ہی انبیاء کے سوائے سب لوگوں کو تمام مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ مامور من اللہ کی صحبت سے انسان درست ہو جاتاہے۔ اگر ہر شخص گھر سے ہی ابدال میں سے بن کر آتا تو پھر سلسلہ بیعت کی ضرورت ہی کیا ہوتی ؟ سلسلہ میں داخل ہو کر کمزور آدمی رفتہ رفتہ طاقت پکڑتا