غافل اور بے خبر بیٹھے ہیں۔
طاعون کے جراثیم بھی دابتہ الارض ہیں:۔
دابتہ الارض بھی یہی طاعونی کیڑا ہے تکلیم کاٹنے کو کہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے ۔ آئے دن بادل بھی بن جاتاہے اور موسم بہار قائم رہتاہے جس میں طاعون کا زور ہوتا ہے۔ اس سال موت بہت کثرت سے ہو رہی ہے ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا پہچانا اور مانا جاوے خواہ کتنے ہی ہلاک ہوں۔ اس کی کیا پروا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے منکر اور گستاخ زندہ رہے تو اس میں کوئی فائدہ کی بات نہیں ۔ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ بس نہ کرے گا جب تک کہ اس کی قہری تجلی اس کی ہستی کو منوا نہ لے گی ۱؎
۱۶؍اپریل۱۹۰۷ئ
مامورمن اللہ کی بات قول فیصل ہوتی ہے:۔ فرمایا:۔
خواجہ غلام فرید چاچڑاں والے سے کسی نے سوال کیا کہ ہم میں وہ سب پیشگوئیاں ظاہری طور پر پوری نہیں ہوتیں تو انہوں نے کیا اچھا جواب دیا کہ کیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہودیوں کے خیال کے مطابق سب باتیں پوری ہوگئی تھیں؟ وہ تو کہتے تھے کہ بنی اسحاق میں سے ہوگا تو کیا پھر ہو نبی انہیں میں سے آیا؟ ایسا ہی مسیح کی نسبت جو کچھ لوگ خیال کئے بیٹھے تھے کہ پہلے اُن سے ایلیا آئے گا کیا الیاس آسمان سے اُتر آیا تھا؟ ہرگز نہیں ۔ پس اسی طرح ضرور نہیں کہ مسیح موعود کے بارے میں سب نشان ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہی ظہور میں آتے ۔ ایسی غلطیاں ہر ایک قوم میں پڑ جاتی ہیں۔ آخر مامور من اللہ آکر ان عقائد و خیالات کی اصلاح کر دیتاہے ۔ اصل میں جب کسی شخص کے منجانب اللہ ہونے کو اللہ تعالیٰ اپنے متواتر نشانوں سے ثابت کردے تو پھر اس کی ہر بات اختلافی مسئلہ میں قول ِ فیصل ہوتی ہے اور سب پیشگوئیوں کے معنی وہی کئے جانے چاہئیں جو وہ کہے۔
الہامات میں مابہ الا متیاز :۔
الہام کا معاملہ بڑا نازک ہے ۔ ایک حدیث النفس ہے ۔ انسان کے جو اپنے خیالات ہوں وہی سُنائی دیتے ہیں۔ دوم اللہ تعالیٰ