خداتعالیٰ کی دی ہوئی تسلی:۔
احمد صاحب جو کہ مدراس سے بیعت کے واسطے آئے ہیں۔ ان کے متعلق عرب صاحب ابو سعید نے ذکر کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ قادیان میں آنے سے پہلے میں نے رویا میں یہ سارا نقشہ ہو بہودیکھا تھا ۔ یہ تمام مکانات وغیرہ مجھے بعینہٖ دکھائے گئے تھے۔
حضرت نے فرمایا:۔
خدا تعالیٰ تسلی دینے کے واسطے یہ باتیں دکھلا دیتاہے اور اس کی تسلی بے نظیر ہوتی ہے۔ دیکھو شرقاً غرباً تمام زمین پر کسی کو یہ تسلی دی گئی کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یہ تسلی فقط ہم کو اس گھر کے متعلق عطا فرمائی گئی ہے یہ خدا تعالیٰ کے عجیب کام ہیں۔
دُعا کو معجزہ :۔
اس جگہ ایک لڑکے کو طاعون شدید ہوگئی تھی۔ حضرت نے اس کے واسطے دُعا کی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صحت دی ۔ اس کا ذکر تھا ۔ مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ میں ہمیشہ غور کرتا رہا ہوں کہ جس شخص کو طاعون کے سبب خون شروع ہو جاوے وہ کبھی نہیں بچتا ۔ صرف یہی ایک لڑکا دیکھا ہے جو باوجود خون آنے کے پھر بچ گیا۔
فرمایا:۔
یہ صرف دُعا کا نتیجہ ہے اور اس کا بچنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عبدالکریم کا بچنا تھا جس کے واسطے کسولی سے تار آیا تھا کہ اب اس کی دیوانگی کے آثار نمودار ہونے پر کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ لیکن خداتعالیٰ نے اس کے حق میں ہماری دُعا کو قبول کیا اور وہ بالکل تندرست ہوگیا۔ کبھی کوئی اس طرح سے بچتا دیکھا یا سُنا نہیں گیا۔
ایک الہام کے معنی :فرمایا:۔
جو یہ الہام تھا کہ یا اللہ ً اب شہر کی بلائیں بھی ٹال دے ‘‘ گواس کے معنے اور بھی ہوں مگر ایک معنی اس کے یہ بھی ہیں کہ یہ سخت بد زبان آریہ سوم راج اور اچھر جو ہر ہفتہ گندی گالیوں سے بھرے ہوئے اخبار چھاپتے تھے یہ بھی اس شہر کی بلائیں تھیں۔ خدا تعالیٰ نے اُن کو ٹال دیا اور جہنم واصل کر دیا۔
اس سال طاعون کا بہت ہی سخت زور ہے ۔ دوسرے شہروں میں بہت تیز ہے اس کے بالمقابل یہاں گویا کچھ نہیں ۔ بعض گائوں بالکل تباہ ہوگئے ہیں۔ بعض میں صرف ایک یا دو آدمی باقی رہ گئے ہیں اور بس بہت سے گائوں حصیدبن گئے ہیں اور ابھی معلوم نہیں کہ انجام کیا ہوگا بڑے احمق ہیں وہ لوگ جو بے باکی نہیں چھوڑتے اور خدا تعالیٰ کے ارادے سے