۱۴؍ اپریل ۱۹۰۷ئ؁ (قبل عصر) صداقت اسلام کے لیے طاعون کی تلوار:۔ ابو سعید عرب صاحب نے ذکر کیا کہ رنگون میں بندروں میں بھی طاعون کی وبا پڑی تھی۔ حضرت نے فرمایا کہ:۔ براہین کے لکھنے کے زمانے میں خدا تعالیٰ نے ہم کو اس طاعون کے پڑنے کی خبردی تھی۔ بدقسمت کفار کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے کہ وہ انبیاء کے مقابلہ میں اپنی موت کا نشان مانگا کرتے ہیں۔ اب ہمارے مخالفوں کا بھی یہی حال ہے ۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے ان کے واسطے یہ تلوار بھیج دی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ براہین میں جو دلائل کا وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ حالانکہ براہین میں صداقت اسلام کے واسطے کئی لاکھ دلیل ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے سے اس میں یہ باتیں لکھوا دی ہیں۔ کیا ہی شان ہمارے نبی کریم ﷺ کی ہے کہ پہلے زمانہ میں جس طرح آنحضرت ﷺ کے مخالفوں کو نامراد اور ذلیل کر کے ہلاک کیا جاتا تھا ایسا ہی آخر میں بھی ہو رہا ہے۔ اس وقت شریروں کی سزا کے واسطے تلوار آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ میں دی گئی تھی اور اس زمانہ میں تلوار خدا خود چلا رہا ہے جو لوگ جہاد پر اعتراض کرتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ بدقسمت کفار اس وقت بھی اپنی شامت اعمال کے سبب اسی طرح ہلاک ہوئے تھے جیسے کہ اب ہو رہے ہیں۔ دین اسلام کی خاطر اگر اس وقت تلوار چلی تھی تو اس وقت بھی دین اسلام ہی کی خاطر تلوار چل رہی ہے۔ سب سے بڑی کرامت استجابت دعا ہے:۔ فرمایا:۔ یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتاہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتاہے ۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ (البقرۃ: ۱۸۷) صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دُعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔