اس طرح تووہ اپنا بیٹا بنانے پر بھی قادر کہا جاسکتا ہے؟ پھر عیسائی مذہب کے اختیار کرنے میں کیا تامل ہے؟ یادرکھو۔ اللہ تعالیٰ بے شک قادر ہے مگر وہ اپنے تقدس اور ان صفات کے خلاف نہیں کرتا جو قدیم سے الہامی کتب میں بیان کی جارہی ہیں گویا ان کے خلاف اس کی توجہ ہوتی ہی نہیں۔ وہ ذات پاک اپنے مواعید کے خلاف بھی نہیں کرتا اور نہ اس طرف وہ متوجہ ہوتا ہے پس ازلی ابدی اس کی صفت ہر کتاب الہٰی میں پڑھ کر پھر اس بات کے امکان پر بحث کرنا کہ وہ خود کشی پر قادر رہے یا ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ (الاخلاص ۲تا ۴) پڑھتے ہوئے پھر اس کے بیٹے کے امکان کا قائل ہونا نہایت لغو حرکت ہے۔ پس ایسی باتوں کے بارے میں ا س بہانے سے گفتگو کرنا کہ ہم نفس امکان پر بحث کرتے ہیں سخت درجے کی گستاخی ہے۱؎۔ آنحضرت ﷺ کے معجزات :۔ آنحضرت ﷺ کا کروڑ معجزوں سے بڑھ کر معجزہ تو یہ تھا کہ جس غرض کے لیے آئے تھے اسے پورا کرگئے۔ یہ ایسی بے نظیر کامیابی ہے کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی میں کامل طور سے نہیں پائی جاتی۔ حضر ت موسیٰؑ بھی رستے ہی میں مرگئے اور حضرت مسیح کی کامیابی تو ان کے حواریوں کے سلوک سے ہویدا ہے۔ ہاں آپ کوہی یہ شان حاصل ہوئی کہ جب گئے تو رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجاً(النصر :۳)یعنی دین اللہ میں فوجوں کی فوجیں داخل ہوتے دیکھ کر۔ دوسرا معجزہؔ تبدیل اخلاق ہے کہ یا تو وہ اُوْلٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ (الاعراف:۱۸۰) چارپایوں سے بھی بدتر تھے یا یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّداً وَّقِیَاماً (الفرقان:۶۵) رات دن نمازوں میں گذارنے والے ہوگئے۔ تیسرا معجزہ:۔ آپ کی غیر منقطع برکات ہیں۔ کل نبیوں کے فیوض کے چشمے بند ہوگئے۔ مگر ہمارے نبی کریم ﷺ کا چشمئہ فیض ابد تک جاری ہے چنانچہ اسی چشمہ سے پی کر ایک مسیح موعود اس امت میں ظاہر ہوا ۔ چوؔتھی یہ بات بھی آپ ہی سے خاص ہے کہ کسی نبی کے لیے اس کی قوم ہر وقت دعا نہیں کرتی مگر آنحضرت ﷺ کی امت دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں نماز میں مشغول ہوتی ہے اور پڑھتی ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ ۔ اس کے نتائج برکات کے رنگ میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ انہی میں سے سلسلہ مکالمات الہٰی ہے جو اس امت کو دیا جاتا ہے۲؎۔