ایک نکتہ ہی کفایت کرتا ہے۔ دیکھو جب لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو صرف قریباً چالیس آدمی تھے۔ پھر اب چار لاکھ ہیں۔ کیا ایسی کامیابی کسی مفتری کو بھی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کی پیشگوئی بھی کرچکا ہے؟ اچھا میں نے اگر کوئی نشان نہ دکھلایا تو ان کے موسیٰ نے کیا دکھایا؟ کیا یہی کہ طاعون سے مرگیا۔ اگر خدا تعالیٰ کے اولیاء کا یہی انجام ہوتا ہے تو پھر اسلام کا خدا ہی حافظ۔
(بوقت ظہر)
سچے الہام کے ساتھ فعلی شہادت ہوتی ہے:۔
محض قول پر فریفتہ ہونے والوں کا وہی انجام ہوتا ہے جو الہٰی بخش کا ہوا۔ یاد رکھو محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ وہ ہرگز کسی کام کا نہیں ۔دیکھو جب کفار کی طرف سے اعتراض ہوا لَسْتَ مُرْسَلاً تو جواب دیا گیا کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْداً بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ (الرعد:۴۴) یعنی عنقریب خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت میری صداقت کو ثابت کردے گی ۔ پس الہام کے ساتھ فعلی شہادت بھی چاہیئے ۔ دیکھو گورنمنٹ جب کسی کو ملازمت عطا کرتی ہے تو اس کی وجاہت کے سامان بھی مہیا کردیتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اس کا مقابلہ کرتے ہیں وہ توہین عدالت کے جرم میں گرفتار ہوتے ہیں۔اسی طرح جو ماموران الہٰی کے مقابلہ پر آتے ہیں وہ ہلاک ہوجاتے ہیں آجکل پچاس آدمی کے قریب ایسے ہیں جو اس مرض میں گرفتار ہیں یعنی اپنے قولی الہام پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ سب غلطی پر ہیں شیطان انسان کا بڑا دشمن ہے مگر خود مفتری بھی ایک شیطان ہے پس وہ اپنا آپ دشمن ہے اس لیے جلد ہلاک ہو جاتا ہے ۔ کسیے ناعاقبت اندیش ہیں وہ لوگ جو ایسوں کے دام تزویر میں پھنس جاتے ہیں ۔ جس کے دعویٰ کے ساتھ عظمت وجلال ربانی کی چمک نہ ہو تو ایسے شخص کو تسلیم کرنا اپنے تئیں آگ میں ڈالنا ہے۔
عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ کی حقیقت :۔
دو مخالفتوں کا ذکر تھا کہ اس مسئلہ کے بارے میں ایک دوسرے کے مخالف باہم کفر کے فتوے دے رہے ہیں ۔ ایک کہتا ہے ضرور ہے کہ انبیاء بہشت میں اور فاسقین جہنم میں پڑیں۔ دوسرا کہتا ہے کہ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلَی کُلِّ شَئی ئٍ قَدِیْرٌ (البقرۃ :۱۰۷) کی بناء پر چاہے تو انبیاء کو دوزخ میں ڈال دے۔
فرمایا:۔
اول الذکر حق پر ہے۔ عَلٰی کُلِّ شَئی ئٍ قَدِیْرٌکے یہ معنے تونہیں کہ اللہ تعالیٰ خود کشی پر بھی قادر ہے۔