ظالموں اور فاسقوں کے لیے ہے۔ یہ مامور من اللہ کے انکار اورفسق کی سزا ہے گویا اس کی خصوصیت کفر کیساتھ ہے ہاں جو مومن کامل نہیں بلکہ معمولی ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تمحیص مقصود ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ انہیں دنیا میں اصلاح کے لیے بطور کفارہ ذنوب جہنم میں داخل کرے اور یہ سب فرقہ ہائے اسلام کی مانی ہوئی بات ہے کہ ایک فریق مومنوں کا بھی جہنم میں کچھ مدت کے لیے پڑے گا۔ پس ماننا پڑتا ہے کہ بعض مومنوں کوبھی طاعون ہوسکتا ہے مگر یاد رہے وہی مومن جو کامل نہیں۔ اس لیے میرے الہام میں ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے جو لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ کے مصداق ہیں یعنی اپنے ایمان کے نور میں کسی قسم کی تاریکی شامل نہیں کریت اور یہ مقام سوائے کاملین کے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ ۶؁ ہجری میں جب طاعون پڑا ہے تو کوئی مسلمان نہیں مرا لیکن جب حضرت عمرؓ کے عہد میں طاعون پڑا تو کئی صحابی بھی شہید ہوئے وجہ یہ کہ کامل مومن ہی ایسی باتوںسے محفوظ رہتے ہیں ۔ اب دیکھنا تو یہ ہے کہ جسے موسیٰ ہونے کا دعویٰ تھا وہ تو یقینا کامل مومنین سے ہے۔ پس اس کے لیے ضرور تھا کہ طاعون سے محفوظ رہتا کیوں کہ یہ ایک عذاب جہنم ہے جس میں خدا تعالیٰ کے برگزیدے نہیں پڑسکتے۔ وہ تو اپنی نسبت یہ الہام سناتا تھا کہ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘۔ اب ایسے عالیشان آدمی کو (اگر وہ واقعی تھا) یہ جہنم (طاعون) کیوں نصیب ہوا۔ یہ تو واقعی عجیب بات ہے کہ جسے وہ فرعون کہتا تھا وہ تو اب تک زندہ ہے اوراس کے گھر کا ایک چوہا بھی نہیں مرا مگر وہ جو موسیٰ تھا وہ طاعون سے مرگیا جو ایک عذاب جہنم ہے۔ کیا خداتعالیٰ کے فرشتہ کو دھوکا ہوگیا؟ جیسے روافض کہا کرتے ہیں کہ وحی نبوت آنی تو علیؓ پر تھی مگر بھول کر آنحضرت ﷺ پر چلی گئی۔ ایساہی طاعون کا فرشتہ بجائے قادیان میں آنے کے لاہور چلا گیا۔ اس نکتہ کو خوب یادرکھنا چاہیئے کہ جو معمولی مومن ہو اس کے لیے ممکن ہے کہ تمحیص کے لیے طاعون کے جہنم میں پڑے تاکہ آخرت میں جنت نصیب ہو۔ مگر وہ جو کامل مومنین سے ہو اس کے لیے ہرگز سنت اللہ نہیں کہ ایسے عذاب میں گرفتار ہو۔ بعض لوگوں کی نسبت اعتراض کیا جاتا ہے کہ فلاں تو نماز پڑھتا تھا یا ایسا تھا پھر کیوں اسے طاعون ہوا ۔ اصل میں اعمال کا تعلق قلب سے ہے اور قلب کے حالات سے بجز اللہ کے کوئی آگاہ نہیں۔ پس نہیں کہہ سکتے کہ فلاں متقی تھایا مخلص احمدی تھا ۔ پھر کیوں طاعون سے مرا؟ دعا کرتا رہتا تھا تو کیا عیسائی دعا نہیں کرتے؟ کیا وہ بعض اوقات نہیں روتے؟ پس ایسے معاملے خدا تعالیٰ کے سپرد ہونے چاہئیں ہاں جب ایمان کا ثبوت ہو تو پھر ایسے طاعون سے مرنے والے شہید ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نشان دکھائے مگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ مانتے نہیں ۔ اگر نجاست قلبی نہ ہو تو بعض اوقات