جب سے خالق ہے تب سے مخلوق ہے:۔
خدا تعالیٰ جب سے خالق ہے تب سے اس کی مخلوق ہے گو ہمیں یہ علم نہ ہو کہ وہ مخلوق کس قسم کی تھی ۔ غرض نوعی قدم کے ہم قائل ہیں۔ ایک نوع فنا کرکے دوسری بنا دی مگر یہ نہیں کہ جیسے آریہ مانتے ہیں روح مادہ ویسا ہی ازلی ابدی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ۔ ہمارا ایمان ہے کہ روح ہو یا مادہ ۔ غرض خواہ کچھ ہی ہو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے ۔۱؎
۱۳؍اپریل ۱۹۰۷ئ
مومن کامل طاعون سے نہیں مرتا:۔ جو کچھ ہے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرتاہے بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ( یٰسٓ: ۸۴)دیکھو خدا تعالیٰ نے ہم میں اور ہمارے دشمنوں میں کیسا امتیاز رکھا ہے ۔ یہی قادیان ہے جس میں کئی مرے اور پھر ہماری جماعت بالکل محفوظ رہی۔ ان مسلمانوں میں کئی گدی نشین ہیں۔ کئی الہام کا دعویٰ کرتے ہیں کئی مقربان الہٰی بنتے ہیں۔ مگر کیا کسی کو یہ بھی وعدہ دیا گیا ہے اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔ یقینا نہیں۔اگر کسی کو یہ دعویٰ ہے تو پیش کرے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کا جھوٹ ثابت کرے۔ دیکھو ان میں سے جس نے دعویٰ کیا وہ فوراً پکڑے گئے۔ جموں کے چراغ دین نے دعویٰ کیا تھا اور پھر الہٰی بخش جو میری نسبت طاعون سے مرنے کا خیال رکھتاتھا طاعون ہی سے ہلاک ہوئے۔ مومن کامل تو کبھی طاعون سے نہیں مرتا۔ پچھلے تمام انبیاء علہیم السلام کی نظیر موجود ہے کیا کوئی نبی طاعون سے مرا؟ پھر کامل مومنین حضرت ابوبکر وعمروعثمان ؓ کی سوانح کو پڑھو۔ کیا ان میں سے کوئی طاعون سے مرا؟ ہرگز نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ تورات وانجیل میں اس طاعون کو عذاب قرار دیا گیا۔ گویا ایک قسم کا جہنم ہے۔ چنانچہ میرے الہامات میں اکثر جہنم کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد طاعون ہی ہے۔ پس مومن کامل تو جہنم سے بالکل محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر وہ اس میں پڑے تو پھر مومن کیسا ہوا؟ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے ۔فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزاً مِّنْ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (البقرۃ :۶۰) یعنی طاعون کا عذاب