کام تھا جو انہوں نے اپنے ذمہ لیا جیسا روشنی میں سیاہ دل چور نہیں ٹھہرسکتا ایسے ہی اس مقام میں جو تجلیات و نوارا الٰہی کا مرکز ہو۔ کوئی سیاہ دل خائن بہت مدت نہیں ٹھہرسکتا۔ اسی لیے قرآن مجید میں فرمایا لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا ( الاحزاب : ۶۱)( نہ پڑوس میں رہیں گے تیرے مگر چند دن ) ۔ نسخہ کیمیا:۔ میرے نزدیک سب سے بڑے مشرک کیمیا گر ہیں کہ یہ رزق کی تلاش میں یوں مارے مارے پھرتے ہیں اور ان اسباب سے کام نہیں لیتے جو اللہ تعالیٰ نے جائز طور سے رزق کے حصول کے لیے مقرر کئے ہیں اور نہ پھر توکل کرتے ہیںحالانکہ خدا تعالیٰ فرماتاہے وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ (الذّٰریات : ۲۳)(اور آسمان میں ہے تمہارا رزق اور جو کچھ تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ ہم ایسے مہوسوں کوایک کیمیا کا نسخہ بتلاتے ہیں بشرطیکہ وہ اس پر عمل کریں۔ خدا تعالیٰ فرماتاہے ۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلُ لَّہٗ مَخْرَجاً وَّ یَرْزُقْہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ( الطلاق : ۳،۴) پس تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے یہ حاصل ہو اسے گویا تمام جہان کی نعمتیں حاصل ہوگئیں۔ یاد رکھو متقی کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ اس مقام پر ہوتاہے کہ جو چاہتا ہے خدا تعالیٰ اس کے لئے اس کے مانگنے سے پہلے مہیا کر دیتا ہے ۔ میں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا۔ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا:۔ جے توں میرا ہو رہیں سب جگہ تیرا ہو۔ پس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء و اولیا ء و صلحاء کا آزمایا ہوا ہے ۔ نادان لوگ اس بات کو چھوڑ کر بوٹیوں کی تلاش میں مارے پھرتے ہیں۔ اتنی محنت اگر وہ ان بوٹیوں کو پیدا کرنے والے کے پانے میں کرتے تو سب من مانی مرادیں پا لیتے ۔ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو:۔ ہماری جماعت کو چاہیئے کہ تقویٰ کی راہوں پر قدم ماریں اور اپنے دشمن کی ہلاکت سے بے جا خوش نہ ہوں ۔ تو رات میں لکھا ہے بنی اسرائیل کے دشمنوں کے بارے میں کہ میں نے اُن کو اس لیے ہلاک کیا کہ وہ بد ہیں نہ اس لیے کہ تم نیک ہو۔ پس نیک بننے کی کوشش کرو میرا ایک شعرہے ۔ ؎ ہر ایک نیکی کی جڑ یہ اتقاہے اگریہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے ہمارے مخالف جو ہیں وہ بھی متقی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ہر چیز اپنی تاثیرات سے پہچانی جاتی ہے۔ نِرا زبانی دعویٰ ٹھیک نہیں ۔ اگر یہ لوگ متقی ہیں تو پھر متقی ہونے کے جو نتائج ہیں وہ ان میں کیوں نہیں؟ نہ مکالمۂ الٰہی سے مشرف ہیں نہ عذاب سے حفاظت کا وعدہ ہے ۔ تقویٰ ایک تریاق ہے جو اسے استعمال کرتاہے وہ تمام زہروں سے نجات پاتا ہے ۔ مگر تقویٰ کامل ہونا چاہیئے ۔ تقویٰ کی کسی شاخ پر عمل پیرا ہونا ایسا ہے جیسے کسی کو بھوک لگی ہو اور وہ ایک دانہ کھالے ۔ ظاہر ہے کہ اس کا کھانا اور نہ کھانا برابر ہے ۔ ایسا ہی پانی کی پیاس ایک قطرہ سے نہیں بجھ سکتی ۔ یہی حال تقویٰ کا ہے ۔ کسی ایک شاخ پر عمل موجب نازل نہیں ہو سکتا۔ پس تقویٰ وہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ( النحل : ۱۲۹)خدا تعالیٰ کی معیت بتا دیتی ہے کہ یہ متقی ہے ۔