۱۱؍ اپریل ۱۹۰۷ئ
(بوقت سیر)
غلام دستگیر قصوری کا مباہلہ :۔
غلام دستگیر قصوری کے بارے میں ذکر تھا کہ بعض مخالفین کہتے ہیں۔ اس نے کب مباہلہ کیا ؟
حضور نے فرمایا کہ :۔
یہ جو اس نے لکھا قُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (الانعام :۴۶) اس کا مصداق بنا۔ اس فقرے کے اس کے سوا اور کیا معنے ہوسکتے ہیں کہ وہ ظالم کی
ہلاکت کا خدا تعالیٰ سے خواستگار ہے اب اللہ تعالیٰ کے فعل نے بتادیا کہ ظالم کون ہے۔ قرآن مجید میں بھی لَعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ (اٰل عمران :۶۲) آیا ہے۔ یوں کھول کر تو نہیں کہا گیا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر عذاب نازل ہو۔ گو اس کا مفہوم یہی ہے مگر یہ عبارت نہیں۔ ایسا ہی وہاں جو قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا تواس کا مطلب یہی تھا۔ پھربطریق تنزل ہم مان لیتے ہیں کہ اس نے صرف ہمارے لیے بد دعا کی مگر اب بتائو کہ اس کی دعا کا اثر کیا ہوا؟ کیا وہ الفاظ جو میرے حق میں کہے اور وہ دعا جو میرے برخلاف کی الٹی اس پر ہی پڑی؟ اب بتلائو کہ کیا مقبولان الہٰی کا یہی نشان ہے کہ جو دعا وہ نہایت تضرع وابتہال سے کریں اس کا الٹا اثر ہو اور اثر بھی یہ کہ خود ہی ہلاک ہو کر اپنے کاذب ہونے پر مہر لگا جاویں۔ خصوصاً ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ مفتری اور کیا کیا سمجھتا ہے۔ دراصل وہ مجمع البحار والے کی مثال دے کر خود اس کا قائمقام بننا چاہتا تھا اور اگر مجھے کوئی نقصان پہنچ جاتا تو بڑے لمبے لمبے اشتہار شائع ہوتے لیکن خدا تعالیٰ نے دشمن کو بالکل موقعہ نہ دیا کہ وہ کسی قسم کی خوشی منائے۔ اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ اس نے میرے برخلاف بد دعا کی اور
خدا تعالیٰ سے میری جڑکے کٹ جانے کی درخواست کی ۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی جڑ کٹ گئی اور مجھے روز افزوں ترقی حاصل ہوئی۔ کیا یہ متعصب مخالف کے لیے عبرت کا مقام نہیں؟ افسوس کہ یہ لوگ ذرا بھی غوروفکر سے کام نہیں لیتے ۔ قرآن مجید کی آیت یہاں کیسی صادق آرہی ہے یَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوآئِرَ عَلَیْھِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ (التوبہ :۹۸ ) ( تا کتے ہیں تم پر زمانے کی گردشیں انہی پر آوے گردش بری)
مامور کے مخالفین کا انجام :۔
خدا تعالیٰ کے مامور کے جو مقابل میں آتا ہے سب دُعائیں اور لعنتیں اسی پر اُلٹ کر پڑتی ہیں جیسا کہ سب نے دیکھ لیا۔ یہ آریہ جو مرے ہیں خدا تعالیٰ نے پسند نہیں کیا کہ اس کہ اس کے مرکز تجلیات میں کوئی ہم پر افتراء کرے۔ واقعی یہ بڑی خیانت کا کام ہے کہ اپنی آنکھوں سے نشان دیکھیں اور پھر نہ صرف خود انکار کریں بلکہ اوروں کو بھی بہکائیں۔ یہ سخت بُرا