آتھم جب رجوع والی شرط سے فائدہ اٹھا کر پندرہ ماہ میں نہ مرا تو خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے نے کیا عمدہ جواب دیا کہ بعض اشخاص آسمان پر مرجاتے ہیں اور اللہ کا دل اس کومردہ دیکھ لیتا ہے مگر دوسرے عوام الناس اس معرفت تک نہیں پہنچتے اور اعتراض کرتے ہیں۔
نبی کے مخالفین کی تباہی کا وقت :۔
ان سب کی تہہ میں وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (ابراہیم :۱۶)کا قانون کام کر رہا ہے۔ ہر نبی پہلے صبر کی حالت میں ہوتا ہے۔ پھر جب ارادہ الٰہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے۔ وہ دعا کرتا ہے۔ پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہوجاتے ہیں۔ دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے۔ پھر ارادہ الٰہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّاراً (نوح:۲۷) جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔ پیغمبر خدا ﷺ تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے۔ پھر جب دردکی حالت پیدا ہوئی توقتال کے ذریعہ مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔ خود ہماری نسبت دیکھو جب یہ شبھ چنتک جاری ہوا تو اس کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا۔ مگر جب ارادہ الٰہی اس کی تباہی کے متعلق ہوا تو ہماری توجہ اس طرف بے اختیار ہوگئی اور پھر تم دیکھتے ہو کہ رسالہ ابھی اچھی طرح شائع بھی نہ ہونے پایا کہ خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہوگئیں۔
یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض اولیاء اللہ کو صفت خلق یا تکوین دی گئی۔ اس سے یہی مراد ہے کہ وہ ان کی دعا کا نتیجہ ہوتا ہے اور الہٰی صفت ایک پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔
اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا:۔
یہ عیسائی اور آریہ کہتے ہیں کہ شمشیر کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے مسلمان کئے۔ ہم کہتے ہیں یہ بھی ایک دو برس تلوار چلا کر دیکھیں کوئی ان کے مذہب میں داخل ہوتا ہے یا نہیں۔ ایمان جو ایک قلبی معاملہ ہے ہم نہیں سمجھ سکتے تلوار کے ذریعہ کیونکر کسی کو شرح صدر حاصل ہوسکتا ہے۔
خدا تعالیٰ کی حکمت :۔
اس میں بھی خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ فلاں فلاں مسلمان عالم ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں۔ اگر یہ داخل ہوتے تو خدا جانے کیا کیا فتنے برپا کرتے۔ لَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ خَیْراً لاَّسْمَعَھُمْ (الانفال :۲۴) یہ وہ وقت ہے جس کی تمام نبیوں نے خبر دی کہ اس وقت عام تباہی ہوگی اور کوئی ایسی آفت باقی نہ رہے گی جو دنیا پر نازل نہ ہو۔ تضرع کا مقام ہے۱؎۔