اپنے غیر معمولی ہونے میں روز بروز بڑھتے جاتے ہیں۔ کہیں زلازل ہیں۔ کہیں طوفان آرہے ہیں۔ کہیں لڑائیوں میں مخلوق ماری جاتی ہے ۔ کہیں طوفان سے لوگ تباہ ہو رہے ہیں ۔ کہیں آگ لگ رہی ہے مگر افسوس کہ لوگ ان سب باتوں کو معمولی سمجھ کر اپنی غفلت میں حسبِ معمول سوئے ہوئے ہیں اور کچھ فکر نہیں کرتے۔ خدا تعالیٰ کا منشاء اور ہے اور لوگوں کے ارادے کچھ اور ہیں۔ راستباز اطاعت اور اعمال سے پہچانا جاتاہے ۔ جس صورت میں ہم ان لوگوں کے سامنے نشان پیش کرتے ہیں اور قرآن اور حدیث کے نصوص دکھاتے ہیں اور پھر وہ انکار کرتے
ہیں تو وہ لوگ راستباز نہیں کہلا سکتے ۔ خدا تعالیٰ کو کیا پرواہ ہے کہ یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کثرت اور تعداد کے رُعب میں نہیں آتا۔ قَلِیْلٌمِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُورٌ ( سبا: ۱۴) دیکھو حضرت نُوحؑ کے وقت کس قدر مخلوق غرق ِ آب ہوئی اور ان کے بالمقابل جو لوگ بچ گئے ان کی تعداد کس قدر تھی۔
پیرزادگی کا مرض :۔
فرمایا:
پیرزادگی کا مرض دق اور سل سے بدتر ہے کیونکہ اس میں رعونت اور تکبرکا مادہ ہوتاہے اور خواہ مخواہ ایک عظمت اپنی دکھاتے ہیں اور فقیری کا دم مارتے رہتے ہیں۔۲؎
۵؍مئی ۱۹۰۶ئ
طبقۂ لولاک :۔
الہام الٰہی لَولَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ کا تذکرہ تھا۔ فرمایا:
اللہ تعالیٰ کی کمال رضا جوئی کی حالت میں یہ طبقہ خدمت گذاران کا لولاک کا حکم رکھتاہے اور یہ بات صاف ہے کہ اگر یہ طبقہ لولاک کا نہ ہوتو افلاک کی خلقت عبث و فضول ہے ۔ افلاک کا بنانا محض اس طبقہ لولاک کی خاطرہے۔
فرمایا: یہ دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھا، لیکن ظلی طور پر ہم پر اس کا اطلاق